بربادی سے اُس شہر کو کیا یار بچائیں
یاروں سے جہاں یار ہی دستار بچائیں
یاروں کی عنایت سے ہوں میں دار پہ لیکن
یہ دار ہے منظور جو اغیار بچائیں
ہونا ہے گرفتار کسی روز تو دل کو
کیوں خود کو محبت سے بھی اک بار بچائیں
بربادی سے اُس شہر کو کیا یار بچائیں
یاروں سے جہاں یار ہی دستار بچائیں
یاروں کی عنایت سے ہوں میں دار پہ لیکن
یہ دار ہے منظور جو اغیار بچائیں
ہونا ہے گرفتار کسی روز تو دل کو
کیوں خود کو محبت سے بھی اک بار بچائیں
دوست میرے ہی مجھے دشمنِ جاں لگتے ہیں
لفظ و لہجے بھی مجھے تیر و کماں لگتے ہیں
صرف تجھ تک نہیں موقوف تیرا حسن و جمال
کم تجھے دیکھنے والے بھی کہاں لگتے ہیں
جو ترے قول مری راحتِ جاں تھے پہلے
اب وہ سب قول مجھے آہ و فغاں لگتے ہیں
عجیب حال میں اپنی حیات رہتی ہے
میں اُس سے جیت بھی جاؤں تو مات رہتی ہے
وہ مجھ سے پیار بھی کرتی ہے یا نہیں کرتی
وہ میرے ساتھ ہو پھر بھی یہ بات رہتی ہے
جو دل کی ساری تمنا کی شمعیں بجھ جائیں
تو شمس آئے قمر اپنی رات رہتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تھا دونوں عالموں کا خزینہ حضورﷺ کا
لیکن تھا صبر، شکر قرینہ حضورﷺ کا
وہ بے مثال ہیں دوں میں اُن کی مثال کیا
دیکھو بنا ہے پھول پسینہ حضورﷺ کا
اپنے تو حرف کچھ نہیں ہیں، لفظ بھی نہیں
لیکن ہے حرف حرف نگینہ حضورﷺ کا