Showing posts with label اکبر جلال. Show all posts
Showing posts with label اکبر جلال. Show all posts

Saturday, 19 April 2025

بربادی سے اس شہر کو کیا یار بچائیں

 بربادی سے اُس شہر کو کیا یار بچائیں

یاروں سے جہاں یار ہی دستار بچائیں

یاروں کی عنایت سے ہوں میں دار پہ لیکن

یہ دار ہے منظور جو اغیار بچائیں

ہونا ہے گرفتار کسی روز تو دل کو

کیوں خود کو محبت سے بھی اک بار بچائیں

Thursday, 27 February 2025

دوست میرے ہی مجھے دشمن جاں لگتے ہیں

 دوست میرے ہی مجھے دشمنِ جاں لگتے ہیں

لفظ و لہجے بھی مجھے تیر و کماں لگتے ہیں

صرف تجھ تک نہیں موقوف تیرا حسن و جمال

کم تجھے دیکھنے والے بھی کہاں لگتے ہیں

جو ترے قول مری راحتِ جاں تھے پہلے

اب وہ سب قول مجھے آہ و فغاں لگتے ہیں

Thursday, 18 July 2024

عجیب حال میں اپنی حیات رہتی ہے

 عجیب حال میں اپنی حیات رہتی ہے

میں اُس سے جیت بھی جاؤں تو مات رہتی ہے

وہ مجھ سے پیار بھی کرتی ہے یا نہیں کرتی

وہ میرے ساتھ ہو پھر بھی یہ بات رہتی ہے

جو دل کی ساری تمنا کی شمعیں بجھ جائیں

تو شمس آئے قمر اپنی رات رہتی ہے

Thursday, 4 July 2024

تھا دونوں عالموں کا خزینہ حضور کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تھا دونوں عالموں کا خزینہ حضورﷺ کا

لیکن تھا صبر، شکر قرینہ حضورﷺ کا

وہ بے مثال ہیں دوں میں اُن کی مثال کیا

دیکھو بنا ہے پھول پسینہ حضورﷺ کا

اپنے تو حرف کچھ نہیں ہیں، لفظ بھی نہیں

لیکن ہے حرف حرف نگینہ حضورﷺ کا