نہ دولت کی طلب تھی اور نہ دولت چاہیے ہے
محبت چاہیے تھی بس، محبت چاہیے ہے
سہا جاتا نہیں ہم سے غم ہجر مسلسل
ذرا سی دیر کو تیری رفاقت چاہیے ہے
تِرا دیدار ہو آنکھیں کسی بھی سمت دیکھیں
سو ہر چہرے میں اب تیری شباہت چاہیے ہے
نہ دولت کی طلب تھی اور نہ دولت چاہیے ہے
محبت چاہیے تھی بس، محبت چاہیے ہے
سہا جاتا نہیں ہم سے غم ہجر مسلسل
ذرا سی دیر کو تیری رفاقت چاہیے ہے
تِرا دیدار ہو آنکھیں کسی بھی سمت دیکھیں
سو ہر چہرے میں اب تیری شباہت چاہیے ہے
جو تجھے پیکر صد ناز و ادا کہتے ہیں
قدرداں حسن کے یہ بات بجا کہتے ہیں
اس کے چہرے کی ضیا سے ہے چمک سورج کی
اس کی بکھری ہوئی زلفوں کو گھٹا کہتے ہیں
وہ جو آنکھوں سے پلائے تو چلو پی لیں گے
ویسے ہم پینے پلانے کو بُرا کہتے ہیں
کوئی عہد وفا بھولا ہوا ہوں
نہیں کچھ یاد کیا بھولا ہوا ہوں
خبر گیری کروں گا کیا کسی کی
میں خود اپنا پتا بھولا ہوا ہوں
اگر مانگوں تو شاید پا سکوں کچھ
مگر حرفِ دعا بھولا ہوا ہوں
تھا پہلا سفر اس کی رفاقت بھی نئی تھی
رستے بھی کٹھن اور مسافت بھی نئی تھی
دل تھا کہ کسی طور بھی قابو میں نہیں تھا
رہ رہ کے دھڑکنے کی علامت بھی نئی تھی
جب اس نے کہا تھا کہ مجھے عشق ہے تم سے
آنکھوں میں جو آئی تھی وہ حیرت بھی نئی تھی
یہ فرقتوں میں لمحۂ وصال کیسے آ گیا
محبتوں میں پھر نیا ابال کیسے آ گیا
جسے جہاں کے مشغلوں میں اپنا ہوش بھی نہ تھا
اچانک آج اسے مِرا خیال کیسے آ گیا
ابھی تلک تو میرے سارے زخم تھے ہرے بھرے
یکایک ان کو کارِ اندمال کیسے آ گیا
محبت کا یہ رخ دیکھا نہیں تھا
وہ یوں بدلے گا یہ سوچا نہیں تھا
عجب ہے سہہ کے زخم بے وفائی
یہ دل کہتا ہے وہ ایسا نہیں تھا
سبب کوئی تو ہے ان نفرتوں کا
میں جھُوٹا تھا کہ وہ سچا نہیں تھا