Showing posts with label فرحت ندیم. Show all posts
Showing posts with label فرحت ندیم. Show all posts

Friday, 13 October 2023

نہ دولت کی طلب تھی اور نہ دولت چاہئے ہے

 نہ دولت کی طلب تھی اور نہ دولت چاہیے ہے

محبت چاہیے تھی بس، محبت چاہیے ہے

سہا جاتا نہیں ہم سے غم ہجر مسلسل

ذرا سی دیر کو تیری رفاقت چاہیے ہے

تِرا دیدار ہو آنکھیں کسی بھی سمت دیکھیں

سو ہر چہرے میں اب تیری شباہت چاہیے ہے

Monday, 14 March 2022

جو تجھے پیکر صد ناز و ادا کہتے ہیں

 جو تجھے پیکر صد ناز و ادا کہتے ہیں

قدرداں حسن کے یہ بات بجا کہتے ہیں

اس کے چہرے کی ضیا سے ہے چمک سورج کی

اس کی بکھری ہوئی زلفوں کو گھٹا کہتے ہیں

وہ جو آنکھوں سے پلائے تو چلو پی لیں گے

ویسے ہم پینے پلانے کو بُرا کہتے ہیں

Sunday, 30 January 2022

کوئی عہد وفا بھولا ہوا ہوں

 کوئی عہد وفا بھولا ہوا ہوں

نہیں کچھ یاد کیا بھولا ہوا ہوں

خبر گیری کروں گا کیا کسی کی

میں خود اپنا پتا بھولا ہوا ہوں

اگر مانگوں تو شاید پا سکوں کچھ

مگر حرفِ دعا بھولا ہوا ہوں

Tuesday, 28 December 2021

تھا پہلا سفر اس کی رفاقت بھی نئی تھی

 تھا پہلا سفر اس کی رفاقت بھی نئی تھی

رستے بھی کٹھن اور مسافت بھی نئی تھی

دل تھا کہ کسی طور بھی قابو میں نہیں تھا

رہ رہ کے دھڑکنے کی علامت بھی نئی تھی

جب اس نے کہا تھا کہ مجھے عشق ہے تم سے

آنکھوں میں جو آئی تھی وہ حیرت بھی نئی تھی

Saturday, 10 July 2021

یہ فرقتوں میں لمحۂ وصال کیسے آ گیا

 یہ فرقتوں میں لمحۂ وصال کیسے آ گیا

محبتوں میں پھر نیا ابال کیسے آ گیا

جسے جہاں کے مشغلوں میں اپنا ہوش بھی نہ تھا

اچانک آج اسے مِرا خیال کیسے آ گیا

ابھی تلک تو میرے سارے زخم تھے ہرے بھرے

یکایک ان کو کارِ اندمال کیسے آ گیا

Friday, 23 April 2021

محبت کا یہ رخ دیکھا نہیں تھا

 محبت کا یہ رخ دیکھا نہیں تھا

وہ یوں بدلے گا یہ سوچا نہیں تھا

عجب ہے سہہ کے زخم بے وفائی

یہ دل کہتا ہے وہ ایسا نہیں تھا

سبب کوئی تو ہے ان نفرتوں کا

میں جھُوٹا تھا کہ وہ سچا نہیں تھا