Showing posts with label ریاض ساغر. Show all posts
Showing posts with label ریاض ساغر. Show all posts

Wednesday, 10 August 2022

مال اسباب خدا جانے کدھر جاتا ہے

 مال اسباب خدا جانے کدھر جاتا ہے

جو گھروندہ بھی بناتا ہوں بکھر جاتا ہے

میں بناتا ہوں نئے دن کے خدوخال مگر

کوئی اس خاکے میں تنہائی سی بھر جاتا ہے

روز آتا ہے ادھر تازہ ہوا کا جھونکا

حبس کمرے کا مگر دیکھ کے ڈر جاتا ہے

Friday, 22 July 2022

قلزم نعت سے مرجان مودت نکلے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


قلزمِ نعت سے مرجانِ مؤدت نکلے

خیمۂ جود سے جوں دستِ سخاوت نکلے

میم سے منظرِ عالم میں چراغاں کا سماں

حائے حطی سے حکیمانہ فراست نکلے

میم اس عالمِ امکان میں ممکن کے لیے

دال سے دین دہش اور دیانت نکلے

Friday, 7 May 2021

لو پکڑ سکتے نہیں ہاتھ جلا بیٹھتے ہیں

 لُو پکڑ سکتے نہیں ہاتھ جلا بیٹھتے ہیں

اور پیشانی پہ پھر داغ سجا بیٹھتے ہیں

مجھ کو اپنے ہی قبیلے کا سمجھ کر اکثر

کچھ پرندے مِری دیوار پہ آ بیٹھتے ہیں

رات سُنسان ہے اور ایک ہی ہوٹل ہے کھُلا

رات کٹتی نہیں، کچھ دیر کو آ، بیٹھتے ہیں

Wednesday, 5 May 2021

یہ واردات پرانی سے مختلف نہیں ہے

 یہ واردات پرانی سے مختلف نہیں ہے

کوئی بھی عمر جوانی سے مختلف نہیں ہے

میں ایک حال میں رہتا ہوں، وہ ملے نہ ملے

کہ میری پیاس بھی پانی سے مختلف نہیں ہے

کسا ہوا ہے، کھلے گا ضرور، میری سنو

کہ اس کا جسم کمانی سے مختلف نہیں ہے

Monday, 3 May 2021

سیاہی پھیل گئی ہے یہ کیا سماں ہوا ہے

 سیاہی پھیل گئی ہے یہ کیا سماں ہوا ہے

چراغ جلتے ہی ہر سمت کیوں دھواں ہوا ہے

وہ اک جزیرہ کہ جو چشمِ تر میں رہتا تھا

وہی جزیرہ محبت کا آسماں ہوا ہے

بدن کہ نیزے پہ جیسے انی تنی ہوئی تھی

وہی بدن ہے مگر جھک کے اب کماں ہوا ہے

Sunday, 2 May 2021

مسئلوں کے اس طرح اب حل نکالے جائیں گے

 مسئلوں کے اس طرح اب حل نکالے جائیں گے

آئینوں کے شہر میں پتھر اُچھالے جائیں گے

ہم‌ نے سوچا بھی نہ تھا آئے گا ایسا وقت بھی

ضابطے آئین کے سب توڑ ڈالے جائیں گے

مُفلسی بن جائے گی اک دن بغاوت کا سبب

ہم اگر یوں ہی فقط وعدوں پہ ٹالے جائیں گے

بسر گئے ہو مرے ذہن سے اتر گئے ہو

 بِسر گئے ہو مِرے ذہن سے اُتر گئے ہو

بھرا پُرا تھا مکاں جس کو خالی کر گئے ہو

میں لے کے بیٹھا ہوا تھا تمہاری راہ میں پھول

نگاہ بھی نہیں کی تم نے اور گزر گئے ہو

مجھے بھی دیکھو میں آندھی گزار آیا ہوں

چلی ذرا سی ہوا، اور تم بکھر گئے ہو

Saturday, 1 May 2021

عجیب لوگ ہیں بارش ہوا سے ڈرتے ہیں

 عجیب لوگ ہیں بارش ہوا سے ڈرتے ہیں

خدا سے ڈرتے نہیں ہیں وبا سے ڈرتے ہیں

بہار آئی ہوئی ہے سنہری دھوپ بھی ہے

گلاب کھلتے ہیں لیکن صبا سے ڈرتے ہیں

طویل چپ ہے مگر شور اس قدر ہے کہ اب

کوئی بلائے تو اس کی صدا سے ڈرتے ہیں