مال اسباب خدا جانے کدھر جاتا ہے
جو گھروندہ بھی بناتا ہوں بکھر جاتا ہے
میں بناتا ہوں نئے دن کے خدوخال مگر
کوئی اس خاکے میں تنہائی سی بھر جاتا ہے
روز آتا ہے ادھر تازہ ہوا کا جھونکا
حبس کمرے کا مگر دیکھ کے ڈر جاتا ہے
مال اسباب خدا جانے کدھر جاتا ہے
جو گھروندہ بھی بناتا ہوں بکھر جاتا ہے
میں بناتا ہوں نئے دن کے خدوخال مگر
کوئی اس خاکے میں تنہائی سی بھر جاتا ہے
روز آتا ہے ادھر تازہ ہوا کا جھونکا
حبس کمرے کا مگر دیکھ کے ڈر جاتا ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
قلزمِ نعت سے مرجانِ مؤدت نکلے
خیمۂ جود سے جوں دستِ سخاوت نکلے
میم سے منظرِ عالم میں چراغاں کا سماں
حائے حطی سے حکیمانہ فراست نکلے
میم اس عالمِ امکان میں ممکن کے لیے
دال سے دین دہش اور دیانت نکلے
لُو پکڑ سکتے نہیں ہاتھ جلا بیٹھتے ہیں
اور پیشانی پہ پھر داغ سجا بیٹھتے ہیں
مجھ کو اپنے ہی قبیلے کا سمجھ کر اکثر
کچھ پرندے مِری دیوار پہ آ بیٹھتے ہیں
رات سُنسان ہے اور ایک ہی ہوٹل ہے کھُلا
رات کٹتی نہیں، کچھ دیر کو آ، بیٹھتے ہیں
یہ واردات پرانی سے مختلف نہیں ہے
کوئی بھی عمر جوانی سے مختلف نہیں ہے
میں ایک حال میں رہتا ہوں، وہ ملے نہ ملے
کہ میری پیاس بھی پانی سے مختلف نہیں ہے
کسا ہوا ہے، کھلے گا ضرور، میری سنو
کہ اس کا جسم کمانی سے مختلف نہیں ہے
سیاہی پھیل گئی ہے یہ کیا سماں ہوا ہے
چراغ جلتے ہی ہر سمت کیوں دھواں ہوا ہے
وہ اک جزیرہ کہ جو چشمِ تر میں رہتا تھا
وہی جزیرہ محبت کا آسماں ہوا ہے
بدن کہ نیزے پہ جیسے انی تنی ہوئی تھی
وہی بدن ہے مگر جھک کے اب کماں ہوا ہے
مسئلوں کے اس طرح اب حل نکالے جائیں گے
آئینوں کے شہر میں پتھر اُچھالے جائیں گے
ہم نے سوچا بھی نہ تھا آئے گا ایسا وقت بھی
ضابطے آئین کے سب توڑ ڈالے جائیں گے
مُفلسی بن جائے گی اک دن بغاوت کا سبب
ہم اگر یوں ہی فقط وعدوں پہ ٹالے جائیں گے
بِسر گئے ہو مِرے ذہن سے اُتر گئے ہو
بھرا پُرا تھا مکاں جس کو خالی کر گئے ہو
میں لے کے بیٹھا ہوا تھا تمہاری راہ میں پھول
نگاہ بھی نہیں کی تم نے اور گزر گئے ہو
مجھے بھی دیکھو میں آندھی گزار آیا ہوں
چلی ذرا سی ہوا، اور تم بکھر گئے ہو
عجیب لوگ ہیں بارش ہوا سے ڈرتے ہیں
خدا سے ڈرتے نہیں ہیں وبا سے ڈرتے ہیں
بہار آئی ہوئی ہے سنہری دھوپ بھی ہے
گلاب کھلتے ہیں لیکن صبا سے ڈرتے ہیں
طویل چپ ہے مگر شور اس قدر ہے کہ اب
کوئی بلائے تو اس کی صدا سے ڈرتے ہیں