Monday, 3 May 2021

سیاہی پھیل گئی ہے یہ کیا سماں ہوا ہے

 سیاہی پھیل گئی ہے یہ کیا سماں ہوا ہے

چراغ جلتے ہی ہر سمت کیوں دھواں ہوا ہے

وہ اک جزیرہ کہ جو چشمِ تر میں رہتا تھا

وہی جزیرہ محبت کا آسماں ہوا ہے

بدن کہ نیزے پہ جیسے انی تنی ہوئی تھی

وہی بدن ہے مگر جھک کے اب کماں ہوا ہے

اگر وہ ثانئ لیلیٰ ہے، کم نہیں ہم بھی

کہ آ کے قیس ہمارا بھی رازداں ہوا ہے

زمین پاؤں پڑی، آسمان جھُک کے ملا

یہ واقعہ بھی مِرے ساتھ ہمرہاں ہوا ہے

چھُپائے چھپتے نہیں عشق مُشک دونوں ہی

تو لو سنو مجھے میں کہہ رہا ہوں ہاں ہوا ہے


ریاض ساغر

No comments:

Post a Comment