سیاہی پھیل گئی ہے یہ کیا سماں ہوا ہے
چراغ جلتے ہی ہر سمت کیوں دھواں ہوا ہے
وہ اک جزیرہ کہ جو چشمِ تر میں رہتا تھا
وہی جزیرہ محبت کا آسماں ہوا ہے
بدن کہ نیزے پہ جیسے انی تنی ہوئی تھی
وہی بدن ہے مگر جھک کے اب کماں ہوا ہے
اگر وہ ثانئ لیلیٰ ہے، کم نہیں ہم بھی
کہ آ کے قیس ہمارا بھی رازداں ہوا ہے
زمین پاؤں پڑی، آسمان جھُک کے ملا
یہ واقعہ بھی مِرے ساتھ ہمرہاں ہوا ہے
چھُپائے چھپتے نہیں عشق مُشک دونوں ہی
تو لو سنو مجھے میں کہہ رہا ہوں ہاں ہوا ہے
ریاض ساغر
No comments:
Post a Comment