فقیر وجد میں آنے کی جستجو میں رہا
خدا کا روپ بنانے کی جستجو میں رہا
تمہاری آنکھ سے سپنے کشید کرتے ہوئے
میں رتجگوں کو منانے کی جستجو میں رہا
تمہارے ساتھ تسلسل سے مسکراتے ہوئے
تمام روگ چھپانے کی جستجو میں رہا
فقیر وجد میں آنے کی جستجو میں رہا
خدا کا روپ بنانے کی جستجو میں رہا
تمہاری آنکھ سے سپنے کشید کرتے ہوئے
میں رتجگوں کو منانے کی جستجو میں رہا
تمہارے ساتھ تسلسل سے مسکراتے ہوئے
تمام روگ چھپانے کی جستجو میں رہا
یہ سلسلۂ ہجر کبھی رونما نہ ہو
میں چاہتا ہوں تجھ کو کوئی حادثہ نہ ہو
یہ ہاتھ تجھ کو چُھو کے کہیں کٹ چکے نہ ہوں
یہ جسم تجھ کو چُھو کے کہیں جل رہا نہ ہو
ہم لوگ ایک ساتھ رہیں مدتوں تلک
گر وقت کی کتاب میں یہ ارتقاء نہ ہو
ہنسی کی اوٹ میں یوں درد کو چھپاتے رہے
بچھڑتے وقت بھی ہم قہقہے لگاتے رہے
تمہارے بعد بھی ہم نے تمہیں نہیں چھوڑا
تمہارا ہجر کئی سال تک نبھاتے رہے
کسی طرح بھی نہیں رک سکے کہیں ہم لوگ
نئے خیال، نئے راستے بناتے رہے
آپ سمجھیں گے بھلا کیا بے بسی دیوار کی
آنکھ میں اتری نہیں جب خامشی دیوار کی
درد کے معنی بہت سے آ گئے ادراک میں
گفتگو تفصیل سے ہم نے سنی دیوار کی
ایک دُوجے کو بتاتے ہیں اداسی کا سبب
دوستی قائم ہے میری اور تِری دیوار کی
سائے کی واردات سے حیران تو نہیں
یہ دُھوپ اپنے آپ سے انجان تو نہیں
لازم ہے اس بدن سے تحیّر کشید ہو
اس حُسن کا بیان یہ مُسکان تو نہیں
آئے گا جلد ہجر کی تحویل میں وہ شخص
خواہش ہے میری ظاہری امکان تو نہیں
پھیلتے سائے، اداسی، ناگہانی شام کی
آنکھ نے محفوظ کر لی رائیگانی شام کی
آؤ دیکھیں کس طرح کا روپ دھارے گا اُفق
آؤ، صورت دیکھ آئیں آسمانی شام کی
ننگے سر چلتی رہی ہیں یاں نبیؐ کی بیٹیاں
خونی شبدوں میں ہی لکھنا تم کہانی شام کی
اپنی طغیانی کا دھارا میری جانب موڑ کر
درد دل میں آ گیا ساری فصیلیں توڑ کر
رات تیری یاد میری نیند کھانے آٸی تھی
رات میں سویا رہا خود پر اداسی اوڑھ کر
ریل کی سیٹی سناٸی دے رہی تھی بارہا
جانے والا جا چکا تھا مجھ کو تنہا چھوڑ کر
سرحدِ میں کے پار ہے دریا
کتنا با اختیار ہے دریا
آپ کی دوستی ہے صحرا سے
اور مِرا غم گسار ہے دریا
اس کی آنکھیں بتا رہی ہیں مجھے
کس قدر دل فگار ہے دریا