Showing posts with label آفاق حاشر. Show all posts
Showing posts with label آفاق حاشر. Show all posts

Tuesday, 24 October 2023

فقیر وجد میں آنے کی جستجو میں رہا

 فقیر وجد میں آنے کی جستجو میں رہا

خدا کا روپ بنانے کی جستجو میں رہا

تمہاری آنکھ سے سپنے کشید کرتے ہوئے

میں رتجگوں کو منانے کی جستجو میں رہا

تمہارے ساتھ تسلسل سے مسکراتے ہوئے

تمام روگ چھپانے کی جستجو میں رہا

Friday, 24 March 2023

یہ سلسلۂ ہجر کبھی رونما نہ ہو

 یہ سلسلۂ ہجر کبھی رونما نہ ہو

میں چاہتا ہوں تجھ کو کوئی حادثہ نہ ہو

یہ ہاتھ تجھ کو چُھو کے کہیں کٹ چکے نہ ہوں

یہ جسم تجھ کو چُھو کے کہیں جل رہا نہ ہو

ہم لوگ ایک ساتھ رہیں مدتوں تلک

گر وقت کی کتاب میں یہ ارتقاء نہ ہو

Friday, 17 February 2023

ہنسی کی اوٹ میں یوں درد کو چھپاتے رہے

 ہنسی کی اوٹ میں یوں درد کو چھپاتے رہے

بچھڑتے وقت بھی ہم قہقہے لگاتے رہے 

تمہارے بعد بھی ہم نے تمہیں نہیں چھوڑا

تمہارا ہجر کئی سال تک نبھاتے رہے 

کسی طرح بھی نہیں رک سکے کہیں ہم لوگ

نئے خیال، نئے راستے بناتے رہے 

Wednesday, 28 September 2022

آپ سمجھیں گے بھلا کیا بے بسی دیوار کی

 آپ سمجھیں گے بھلا کیا بے بسی دیوار کی

آنکھ میں اتری نہیں جب خامشی دیوار کی

درد کے معنی بہت سے آ گئے ادراک میں

گفتگو تفصیل سے ہم نے سنی دیوار کی

ایک دُوجے کو بتاتے ہیں اداسی کا سبب

دوستی قائم ہے میری اور تِری دیوار کی

Sunday, 25 September 2022

سائے کی واردات سے حیران تو نہیں

 سائے کی واردات سے حیران تو نہیں

یہ دُھوپ اپنے آپ سے انجان تو نہیں

لازم ہے اس بدن سے تحیّر کشید ہو

اس حُسن کا بیان یہ مُسکان تو نہیں

آئے گا جلد ہجر کی تحویل میں وہ شخص 

خواہش ہے میری ظاہری امکان تو نہیں

Saturday, 24 September 2022

پھیلتے سائے اداسی ناگہانی شام کی

 پھیلتے سائے، اداسی، ناگہانی شام کی

آنکھ نے محفوظ کر لی رائیگانی شام کی

آؤ دیکھیں کس طرح کا روپ دھارے گا اُفق

آؤ، صورت دیکھ آئیں آسمانی شام کی 

ننگے سر چلتی رہی ہیں یاں نبیؐ کی بیٹیاں

خونی شبدوں میں ہی لکھنا تم کہانی شام کی 

Friday, 25 February 2022

اپنی طغیانی کا دھارا میری جانب موڑ کر

 اپنی طغیانی کا دھارا میری جانب موڑ کر

درد دل میں آ گیا ساری فصیلیں توڑ کر

رات تیری یاد میری نیند کھانے آٸی تھی

رات میں سویا رہا خود پر اداسی اوڑھ کر

ریل کی سیٹی سناٸی دے رہی تھی بارہا

جانے والا جا چکا تھا مجھ کو تنہا چھوڑ کر

Friday, 30 July 2021

سرحد میں کے پار ہے دریا

 سرحدِ میں کے پار ہے دریا

کتنا با اختیار ہے دریا

آپ کی دوستی ہے صحرا سے

اور مِرا غم گسار ہے دریا

اس کی آنکھیں بتا رہی ہیں مجھے

کس قدر دل فگار ہے دریا