راس آیا نہیں یہ سال مجھے
اس کا ہوتا رہا ملال مجھے
میں ابھی تک اسی یقین میں ہوں
عشق کر دے گا لازوال مجھے
ہو جو ممکن تو میری آنکھیں پڑھو
کوئی آتا نہیں سوال مجھے
راس آیا نہیں یہ سال مجھے
اس کا ہوتا رہا ملال مجھے
میں ابھی تک اسی یقین میں ہوں
عشق کر دے گا لازوال مجھے
ہو جو ممکن تو میری آنکھیں پڑھو
کوئی آتا نہیں سوال مجھے
جاتی نہیں ہے اس کی مہک تک لحاف سے
آئی تھی ایک بار پری کوہ قاف سے
آنکھوں میں روشنی کا سمندر امڈ پڑا
جیسے ہی اس بدن کو نکالا غلاف سے
تجھ کو کبھی بھی میری ضرورت نہیں رہی
مایوس ہو گیا ہوں میں اس انکشاف سے
ہوا سے ہاتھ چھڑانا بہت ضروری تھا
کہ اب چراغ جلانا بہت ضروری تھا
ہمارے زخم اگر اور بڑھ گئے بھی تو کیا
تمہارا درد بٹانا بہت ضروری تھا
مِری زمین مِرے دل میں بھی شگاف سا ہے
یہ راز تجھ کو بتانا بہت ضروری تھا
تو کیا ہوا جو مِرے ساتھ آج تُو نہیں ہے
فقط یہی کہ ہے ویرانی ہاؤ ہُو نہیں ہے
تمہارے ساتھ جو اک روز میری بات نہ ہو
تو یوں لگے کہ کسی سے بھی گفتگو نہیں ہے
یہ زخمِ دل کی نمائش نہیں تماشا گرو
دراصل بات یہ ہے پیرہن رفو نہیں ہے
آخر طویل شب کا فسوں بھی نہیں رہا
وہ بھی نہیں رہا تو جنوں بھی نہیں رہا
پہلے بھی کچھ نہیں تھا مگر اطمینان تھا
اور اب تو زندگی میں سکوں بھی نہیں رہا
اس کو تو اپنے جیسے حسیں کی تلاش تھی
شاید ہمارے دل میں وہ یوں بھی نہیں رہا
گزارنے کو تو سب زندگی گزارتے ہیں
ہم اہلِ عشق عجب زندگی گزارتے ہیں
فریب کھاتے چلے جا رہے ہیں دنیا سے
کوئی سلیقہ نہ ڈھب زندگی گزارتے ہیں
وہ چند روز جو اچھے دنوں سے ہیں موسوم
نہ تب گزاری نہ اب زندگی گزارتے ہیں