Showing posts with label ارشد عباس ذکی. Show all posts
Showing posts with label ارشد عباس ذکی. Show all posts

Monday, 17 July 2023

راس آیا نہیں یہ سال مجھے

 راس آیا نہیں یہ سال مجھے 

اس کا ہوتا رہا ملال مجھے 

میں ابھی تک اسی یقین میں ہوں 

عشق کر دے گا لازوال مجھے 

ہو جو ممکن تو میری آنکھیں پڑھو

کوئی آتا نہیں سوال مجھے

Sunday, 28 May 2023

جاتی نہیں ہے اس کی مہک تک لحاف سے

 جاتی نہیں ہے اس کی مہک تک لحاف سے

آئی تھی ایک بار پری کوہ قاف سے

آنکھوں میں روشنی کا سمندر امڈ پڑا

جیسے ہی اس بدن کو نکالا غلاف سے

تجھ کو کبھی بھی میری ضرورت نہیں رہی

مایوس ہو گیا ہوں میں اس انکشاف سے

Monday, 22 May 2023

ہوا سے ہاتھ چھڑانا بہت ضروری تھا

 ہوا سے ہاتھ چھڑانا بہت ضروری تھا

کہ اب چراغ جلانا بہت ضروری تھا

ہمارے زخم اگر اور بڑھ گئے بھی تو کیا

تمہارا درد بٹانا بہت ضروری تھا

مِری زمین مِرے دل میں بھی شگاف سا ہے

یہ راز تجھ کو بتانا بہت ضروری تھا

Saturday, 25 February 2023

تو کیا ہوا جو مرے ساتھ آج تو نہیں ہے

 تو کیا ہوا جو مِرے ساتھ آج تُو نہیں ہے

فقط یہی کہ ہے ویرانی ہاؤ ہُو نہیں ہے

تمہارے ساتھ جو اک روز میری بات نہ ہو 

تو یوں لگے کہ کسی سے بھی گفتگو نہیں ہے

یہ زخمِ دل کی نمائش نہیں تماشا گرو

دراصل بات یہ ہے پیرہن رفو نہیں ہے

Sunday, 6 June 2021

آخر طویل شب کا فسوں بھی نہیں رہا

 آخر طویل شب کا فسوں بھی نہیں رہا

وہ بھی نہیں رہا تو جنوں بھی نہیں رہا

پہلے بھی کچھ نہیں تھا مگر اطمینان تھا

اور اب تو زندگی میں سکوں بھی نہیں رہا

اس کو تو اپنے جیسے حسیں کی تلاش تھی

شاید ہمارے دل میں وہ یوں بھی نہیں رہا

Saturday, 5 June 2021

گزارنے کو تو سب زندگی گزارتے ہیں

 گزارنے کو تو سب زندگی گزارتے ہیں

ہم اہلِ عشق عجب زندگی گزارتے ہیں

فریب کھاتے چلے جا رہے ہیں دنیا سے

کوئی سلیقہ نہ ڈھب زندگی گزارتے ہیں

وہ چند روز جو اچھے دنوں سے ہیں موسوم

نہ تب گزاری نہ اب زندگی گزارتے ہیں