آخر طویل شب کا فسوں بھی نہیں رہا
وہ بھی نہیں رہا تو جنوں بھی نہیں رہا
پہلے بھی کچھ نہیں تھا مگر اطمینان تھا
اور اب تو زندگی میں سکوں بھی نہیں رہا
اس کو تو اپنے جیسے حسیں کی تلاش تھی
شاید ہمارے دل میں وہ یوں بھی نہیں رہا
اس نے کسی کو اپنے بدن تک رسائی دی
لیکن وہ شخص میرے دروں بھی نہیں رہا
کیسے کروں گا میں غمِ ہجراں کی پرورش
اب تو بدن میں قطرۂ خوں بھی نہیں رہا
اپنے شکستہ دل سے کھلونے بناؤں گا
یہ اپنے کام کاج کا یوں بھی نہیں رہا
ارشد عباس ذکی
No comments:
Post a Comment