Sunday, 6 June 2021

آخر طویل شب کا فسوں بھی نہیں رہا

 آخر طویل شب کا فسوں بھی نہیں رہا

وہ بھی نہیں رہا تو جنوں بھی نہیں رہا

پہلے بھی کچھ نہیں تھا مگر اطمینان تھا

اور اب تو زندگی میں سکوں بھی نہیں رہا

اس کو تو اپنے جیسے حسیں کی تلاش تھی

شاید ہمارے دل میں وہ یوں بھی نہیں رہا

اس نے کسی کو اپنے بدن تک رسائی دی

لیکن وہ شخص میرے دروں بھی نہیں رہا

کیسے کروں گا میں غمِ ہجراں کی پرورش

اب تو بدن میں قطرۂ خوں بھی نہیں رہا

اپنے شکستہ دل سے کھلونے بناؤں گا

یہ اپنے کام کاج کا یوں بھی نہیں رہا


ارشد عباس ذکی

No comments:

Post a Comment