جب سے غیروں سے مراسم کو بڑھایا اس نے
دل کو رہ رہ کے میرے روز جلایا اس نے
دیکھ کر خواب کوئی جیسے بھلا دیتا ہے
ٹھیک اسی طرح مجھے دل سے بھلایا اس نے
میں نے ہر بار منانے میں پہل کی جس کو
میں جو رُوٹھا تو مجھ کو نہ منایا اس نے
جب سے غیروں سے مراسم کو بڑھایا اس نے
دل کو رہ رہ کے میرے روز جلایا اس نے
دیکھ کر خواب کوئی جیسے بھلا دیتا ہے
ٹھیک اسی طرح مجھے دل سے بھلایا اس نے
میں نے ہر بار منانے میں پہل کی جس کو
میں جو رُوٹھا تو مجھ کو نہ منایا اس نے
دل کا معاملہ نِگہِ آشنا کے ساتھ
ایسے ہے جیسے رابطۂ گل صبا کے ساتھ
دیکھو تو پیچ و تاب کی صورت کہ مل گئی
شامِ فراق بھی تِری زلفِ دو تا کے ساتھ
یہ کیا بہار ہے کہ دکھائی گئی مجھے
شعلوں کی آنچ بھی گلِ رنگیں قبا کے ساتھ