Showing posts with label عابد علی. Show all posts
Showing posts with label عابد علی. Show all posts

Friday, 6 August 2021

جب سے غیروں سے مراسم کو بڑھایا اس نے

 جب سے غیروں سے مراسم کو بڑھایا اس نے

دل کو رہ رہ کے میرے روز جلایا اس نے

دیکھ کر خواب کوئی جیسے بھلا دیتا ہے

ٹھیک اسی طرح مجھے دل سے بھلایا اس نے

میں نے ہر بار منانے میں پہل کی جس کو

میں جو رُوٹھا تو مجھ کو نہ منایا اس نے

Wednesday, 10 March 2021

دل کا معاملہ نگہ آشنا کے ساتھ

دل کا معاملہ نِگہِ آشنا کے ساتھ

ایسے ہے جیسے رابطۂ گل صبا کے ساتھ

دیکھو تو پیچ و تاب کی صورت کہ مل گئی

شامِ فراق بھی تِری زلفِ دو تا کے ساتھ

یہ کیا بہار ہے کہ دکھائی گئی مجھے

شعلوں کی آنچ بھی گلِ رنگیں قبا کے ساتھ

Tuesday, 5 December 2017

دن ڈھلا شام ہوئی پھول کہیں لہرائے

دن ڈھلا شام ہوئی پھول کہیں لہرائے 
سانپ یادوں کے مہکتے ہوئے ڈسنے آئے 
وہ کڑی دھوپ کے دن وہ تپش راہ وفا 
وہ سواد شب گیسو کے گھنیرے سائے 
دولت طبع سخن گو ہے امانت اس کی 
جب تِری چشم سخن ساز طلب فرمائے 

سب کے جلوے نظر سے گزرے ہیں

سب کے جلوے نظر سے گزرے ہیں 
وہ نہ جانے کدھر سے گزرے ہیں 
موج آواز پائے یار کے ساتھ 
نغمے دیوار و در سے گزرے ہیں 
آج آیا ہے اپنا دھیان ہمیں 
آج دل کے نگر سے گزرے ہیں 

Saturday, 2 January 2016

واعظ شہر خدا ہے مجھے معلوم نہ تھا

واعظِ شہر خدا ہے مجھے معلوم نہ تھا
یہی بندے کی خطا ہے مجھے معلوم نہ تھا 
غمِ دوراں کا مداوا نہ ہُوا، پر نہ ہُوا
ہاتھ میں کس کے شفا ہے مجھے معلوم نہ تھا 
نغمۂ مے بھی نہ ہو بانگِ بط مے بھی نہ ہو
یہ بھی جینے کی ادا ہے مجھے معلوم نہ تھا 

چین پڑتا ہے دل کو آج نہ کل

چین پڑتا ہے دل کو آج نہ کل
وہی الجھن گھڑی گھڑی پَل پَل
میرا جینا ہے سیج کانٹوں کی
ان کے مرنے کا نام تاج محل
یا کبھی عاشقی کا کھیل نہ کھیل
یا اگر مات ہو تو ہاتھ نہ مل

جبین تمنا کی تابانیاں ہیں

جبینِ تمنا کی تابانیاں ہیں
کہ دل میں ابھی تک پرافشانیاں ہیں
یونہی تیرے گیسو ہیں رسوا کہ مجھ کو
پریشانیاں تھیں، پریشانیاں ہیں
ہمیں رمز جینے کی پہچانتے ہیں
پشیمانیاں سخت نادانیاں ہیں

آج پھر ان کو گلستاں میں خراماں دیکھا

آج پھر ان کو گلستاں میں خراماں دیکھا
رنگ کو رقص میں، نکہت کو پرافشاں دیکھا​
گوشۂ باغ میں اک ماہِ منور چمکا
افقِ ناز سے اک مہرِ درخشاں دیکھا​
پھر ہوئے روح میں اصنامِ تمنا بیدار 
پھر وہی قاعدۂ جلوۂ جاناں دیکھا​

Tuesday, 29 December 2015

دل ہے آئینہ حیرت سے دو چار آج کی رات

دل ہے آئینۂ حیرت سے دو چار آج کی رات
غمِ دوراں میں ہے عکسِ غمِ یار آج کی رات
آتشِ گل کو دامن سے ہوا دیتی ہے
دیدنی ہے روشِ موجِ بہار آج کی رات
آج کی رات کا مہماں ہے ملبوسِ حریر
اس چمن زر میں اگتے ہیں شرر آج کی رات

کہو بتوں سے کہ ہم طبع سادہ رکھتے ہیں

کہو بتوں سے کہ ہم طبع سادہ رکھتے ہیں
پھر ان سے عرضِ وفا کا ارادہ رکھتے ہیں
یہی خطا ہے کہ اس گیر و دار میں ہم لوگ
دلِ شگفتہ، جبینِ کشادہ رکھتے ہیں
خدا گواہ کہ اصنام سے ہے کم رغبت
صنم گری کی تمنا زیادہ رکھتے ہیں 

عجب نہیں جو محبت مری سرشت میں ہے

عجب نہیں جو محبت مِری سرشت میں ہے
یہی شرار نہاں روحِ سنگ و خشت میں ہے
نہ بجلیوں کو خبر ہے نہ خوشہ چیں کو پتہ
کہ اِک نہال تمنا ہماری کشت میں ہے
یہ رنگ و نور کے نغمے یہ دلکشا جلوے
صنم کدے ہیں کہ ذوقِ نظر بہشت میں ہے

آپ کا زرتار دامن کاروان رنگ ہے

آپ کا زرتار دامن کاروانِ رنگ ہے
لہریا آنچل غبارِ کہکشانِ رنگ ہے
پاؤں پر نقشِ حنا، ماتھے پہ ٹیکا صندلی
یہ زمینِ رنگ ہے، وہ آسمانِ رنگ ہے
نیلوفر نیلم ہے گویا موتیا الماس ہے
آج ہر جنسِ چمن جنسِ دکانِ رنگ ہے

Thursday, 19 November 2015

چاند ستاروں سے کیا پوچھوں کب دن میرے پھرتے ہیں

چاند ستاروں سے کیا پوچھوں کب دن میرے پھِرتے ہیں 
وہ تو بے چارے خود ہیں بھکاری ڈیرے ڈیرے پھِرتے ہیں 
جن گلیوں میں ہم نے سُکھ کی سیج پہ راتیں کاٹی تھیں 
اُن گلیوں میں بیاکل ہو کر سانجھ سویرے پھِرتے ہیں 
رُوپ سرُوپ کی جوت جگانا اس نگری میں جوکھم ہے 
چاروں کھونٹ بگولے بن کر گھور اندھیرے پھِرتے ہیں 

دن ڈھلا شام ہوئی پھول کہِیں لہرائے

دن ڈھلا، شام ہوئی، پھول کہِیں لہرائے
سانپ یادوں کے مہکتے ہوئے ڈسنے آئے
وہ کڑی دھوپ کے دن، وہ تپشِ راہِ وفا
وہ سوادِ شبِ گیسُو کے گھنیرے سائے
دولتِ طبعِ سخن گو ہے امانت اس کی
جب تِری چشمِ سخن ساز طلب فرمائے

ریت کی طرح کناروں پہ ہیں ڈرنے والے

ریت کی طرح کناروں پہ ہیں ڈرنے والے
موج در موج گئے پار اترنے والے
آج کانٹوں سے گریبان چھڑائیں تو سہی
لالہ و گل پہ کبھی پاؤں نہ دھرنے والے
روپ سے، چھب سے، پھبن سے کوئی آگاہ نہیں
نقش کارِ لب و عارج ہیں سنورنے والے