بہ خوبی ہمچومہ تابندہ باشی
بہ ملک دلبری پاینده باشی
تیرا خوبصورت چہرہ چاند کی طرح چمکتا ہے
ملک حسن پہ تیری بادشاہی سلامت رہے
من درویش را کشتی بہ غمزہ
کرم کردى الٰہی زندہ باشی
بہ خوبی ہمچومہ تابندہ باشی
بہ ملک دلبری پاینده باشی
تیرا خوبصورت چہرہ چاند کی طرح چمکتا ہے
ملک حسن پہ تیری بادشاہی سلامت رہے
من درویش را کشتی بہ غمزہ
کرم کردى الٰہی زندہ باشی
تِری محفل میں فرقِ کفر و ایماں کون دیکھے گا
فسانہ ہی نہیں کوئی تو عنواں کون دیکھے گا
یہاں تو ایک لیلیٰ کے نہ جانے کتنے مجنوں ہیں
یہاں اپنا گریباں اپنا داماں کون دیکھے گا
بہت نکلے ہیں لیکن پھر بھی کچھ ارمان ہیں دل میں
بجز تیرے مِرا یہ سوزِ پنہاں کون دیکھے گا
یہ ہم پر لطف کیسا یہ کرم کیا
بدل ڈالے ہیں اندازِ ستم کیا
زمانہ ہیچ ہے اپنی نظر میں
زمانے کی خوشی کیا اور غم کیا
جب اس محفل کو ہم کہتے ہیں اپنا
پھر اس محفل میں فکر بیش و کم کیا
ہر جگہ آپ نے ممتاز بنایا ہے مجھے
واقعی قابلِ اعزاز بنایا ہے مجھے
جس پر مر مٹنے کی ہر ایک قسم کھاتا ہے
وہی شوخی، وہی انداز بنایا ہے مجھے
واقعی واقفِ ادراک دو عالم تم ہو
تم نے ہی واقفِ ہر راز بنایا ہے مجھے
تِری تلاش میں نکلے ہیں تیرے دیوانے
کہاں سحر ہو، کہاں شام ہو خدا جانے
حرم ہمیں سے ہمیں سے ہیں آج بت خانے
یہ اور بات ہے دنیا ہمیں نہ پہچانے
حرم کی راہ میں حائل نہیں ہیں بتخانے
حرم سے اہلِ حرم ہو گئے ہیں بیگانے
یہاں سے اب کہیں لے چل خیالِ یار مجھے
چمن میں راس نہ آئے گی یہ بہار مجھے
تِری لطیف نگاہوں کی خاص جنبش نے
بنا دیا تِری فطرت کا رازدار مجھے
مِری حیات کا انجام اور کچھ ہوتا
جو آپ کہتے کبھی اپنا جاں نثار مجھے