Saturday, 13 November 2021

تری تلاش میں نکلے ہیں تیرے دیوانے

 تِری تلاش میں نکلے ہیں تیرے دیوانے

کہاں سحر ہو، کہاں شام ہو خدا جانے

حرم ہمیں سے ہمیں سے ہیں آج بت خانے

یہ اور بات ہے دنیا ہمیں نہ پہچانے

حرم کی راہ میں حائل نہیں ہیں بتخانے

حرم سے اہلِ حرم ہو گئے ہیں بیگانے

یہ غور تُو نے کِیا بھی کہ حشر کیا ہو گا

تڑپ اٹھے جو قیامت میں تیرے دیوانے

عزیز اپنا ارادہ کبھی بدل نہ سکا

حرم کی راہ میں آئے ہزار بتخانے


عزیز وارثی

No comments:

Post a Comment