محفل میں گفتگو ہوئی جب اعتبار کی
نظریں جھکی ہوئی تھیں ہر اک جاں نثار کی
یہ بات یاد رکھیے گا اس خاکسار کی
پوشاک صاف ہوتی ہے ہر عیب دار کی
رخ سے ذرا سی دیر ہٹا لیجیے نقاب
قسمت سنوار دیجیے لیل و نہار کی
محفل میں گفتگو ہوئی جب اعتبار کی
نظریں جھکی ہوئی تھیں ہر اک جاں نثار کی
یہ بات یاد رکھیے گا اس خاکسار کی
پوشاک صاف ہوتی ہے ہر عیب دار کی
رخ سے ذرا سی دیر ہٹا لیجیے نقاب
قسمت سنوار دیجیے لیل و نہار کی
نہ کوئی عشق رہا، اور نہ محبت ہے تمہیں
صاف ظاہر ہے کہ اب مجھ سے عداوت ہے تمہیں
مسئلہ حل نہیں ہو گا کبھی خاموشی سے
لب کو جُنبش دو اگر کوئی شکایت ہے تمہیں
میں تمہیں چھوڑ کے جاؤں یہ نہیں ہو سکتا
تم مجھے چھوڑنا چاہو تو اجازت ہے تمہیں
آپ نے ایسے دل شکستی کی
دھجیاں اُڑ گئی ہیں ہستی کی
تیری تصویر سامنے رکھ کر
میں نے کل رات بُت پرستی کی
بُھول بیٹھے ہیں اپنے خالق کو
اور شکایت ہے تنگ دستی کی
کاسے میں ایک فقیر کے رکھا گیا مجھے
صدقہ سمجھ کے دل سے اُترا گیا مجھے
اک عشق رفتہ رفتہ ہنستا گیا مجھے
اک ہجر اپنے آپ میں کھاتا گیا مجھے
مثلِ گُلاب شاخ سے توڑا گیا مجھے
پھر یوں ہُوا، کتاب میں رکھا گیا مجھے
وہ زخم ملے روح کو پتھر کے صنم سے
کرتے ہیں شب و روز وضو دیدۂ نم سے
افسوس جوانی میں کمر جُھک گئی اُس کی
حیرت ہے کہ وہ ہار گیا، رنج و الم سے
راس آ گئی صحرا کو مِری اشک فشانی
اشجار سکوں پاتے ہیں اکثر مِرے غم سے
ہمارے سامنے جو مسکرا کے چلتے ہیں
فراق یار میں وہ کروٹیں بدلتے ہیں
وہ جن کے آتش الفت سے دل پگھلتے ہیں
سو ان کی آنکھوں سے آنسو بجا نکلتے ہیں
وہ اور ہیں جو بہکتے ہیں جام پی پی کر
ہم اہل ظرف کے پی کر قدم سنبھلتے ہیں