Showing posts with label محور سرسوی. Show all posts
Showing posts with label محور سرسوی. Show all posts

Sunday, 11 February 2024

محفل میں گفتگو ہوئی جب اعتبار کی

 محفل میں گفتگو ہوئی جب اعتبار کی

نظریں جھکی ہوئی تھیں ہر اک جاں نثار کی

یہ بات یاد رکھیے گا اس خاکسار کی

پوشاک صاف ہوتی ہے ہر عیب دار کی

رخ سے ذرا سی دیر ہٹا لیجیے نقاب

قسمت سنوار دیجیے لیل و نہار کی

Tuesday, 21 November 2023

نہ کوئی عشق رہا اور نہ محبت ہے تمہیں

 نہ کوئی عشق رہا، اور نہ محبت ہے تمہیں

صاف ظاہر ہے کہ اب مجھ سے عداوت ہے تمہیں

مسئلہ حل نہیں ہو گا کبھی خاموشی سے

لب کو جُنبش دو اگر کوئی شکایت ہے تمہیں

میں تمہیں چھوڑ کے جاؤں یہ نہیں ہو سکتا

تم مجھے چھوڑنا چاہو تو اجازت ہے تمہیں

Monday, 20 November 2023

آپ نے ایسے دل شکستی کی

 آپ نے ایسے دل شکستی کی

دھجیاں اُڑ گئی ہیں ہستی کی

تیری تصویر سامنے رکھ کر

میں نے کل رات بُت پرستی کی

بُھول بیٹھے ہیں اپنے خالق کو

اور شکایت ہے تنگ دستی کی

Saturday, 18 November 2023

کاسے میں ایک فقیر کے رکھا گیا مجھے

 کاسے میں ایک فقیر کے رکھا گیا مجھے

صدقہ سمجھ کے دل سے اُترا گیا مجھے

اک عشق رفتہ رفتہ ہنستا گیا مجھے

اک ہجر اپنے آپ میں کھاتا گیا مجھے

مثلِ گُلاب شاخ سے توڑا گیا مجھے

پھر یوں ہُوا، کتاب میں رکھا گیا مجھے

Friday, 17 November 2023

وہ زخم ملے روح کو پتھر کے صنم سے

 وہ زخم ملے روح کو پتھر کے صنم سے

کرتے ہیں شب و روز وضو دیدۂ نم سے

افسوس جوانی میں کمر جُھک گئی اُس کی

حیرت ہے کہ وہ ہار گیا، رنج و الم سے

راس آ گئی صحرا کو مِری اشک فشانی

اشجار سکوں پاتے ہیں اکثر مِرے غم سے

Wednesday, 7 December 2022

ہمارے سامنے جو مسکرا کے چلتے ہیں

ہمارے سامنے جو مسکرا کے چلتے ہیں

فراق یار میں وہ کروٹیں بدلتے ہیں

وہ جن کے آتش الفت سے دل پگھلتے ہیں

سو ان کی آنکھوں سے آنسو بجا نکلتے ہیں

وہ اور ہیں جو بہکتے ہیں جام پی پی کر

ہم اہل ظرف کے پی کر قدم سنبھلتے ہیں