وہ جو دن ہجر یار میں گُزرے
کچھ تڑپ کچھ قرار میں گزرے
وہی حاصل تھے زندگانی کے
چار دن جو بہار میں گزرے
کیا کیا تم سے کیسے کیسے وہم
دلِ بے اعتبار میں گزرے
وہ جو دن ہجر یار میں گُزرے
کچھ تڑپ کچھ قرار میں گزرے
وہی حاصل تھے زندگانی کے
چار دن جو بہار میں گزرے
کیا کیا تم سے کیسے کیسے وہم
دلِ بے اعتبار میں گزرے
یوں وفا آزمائی جاتی ہے
دل کی رگ رگ دکھائی جاتی ہے
اپنی صورت کے آئنے میں مجھے
میری صورت دکھائی جاتی ہے
ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے
نئی دنیا بنائی جاتی ہے
مانی ہے کسی نے کب کسی کی
فطرت ہی یہی ہے آدمی کی
ہر سانس ہماری زندگی کی
دیتی ہے دُہائی آپ ہی کی
سو بار گئے ہیں ان کے آگے
جی ہی میں رہی ہے حیف جی کی
ہے معمہ مِری محبت بھی
شکر کے ساتھ ہے شکایت بھی
دل کو پیاری ہے جس کی نفرت بھی
کیا ہو گر وہ کرے محبت بھی
دشمنِ اعتبار ہوتی ہے
بعض حالات میں حقیقت بھی