Showing posts with label امیر رضا. Show all posts
Showing posts with label امیر رضا. Show all posts

Tuesday, 7 July 2026

وہ جو دن ہجر یار میں گزرے

 وہ جو دن ہجر یار میں گُزرے 

کچھ تڑپ کچھ قرار میں گزرے 

وہی حاصل تھے زندگانی کے 

چار دن جو بہار میں گزرے 

کیا کیا تم سے کیسے کیسے وہم 

دلِ بے اعتبار میں گزرے 

Sunday, 20 April 2025

یوں وفا آزمائی جاتی ہے

 یوں وفا آزمائی جاتی ہے

دل کی رگ رگ دکھائی جاتی ہے

اپنی صورت کے آئنے میں مجھے

میری صورت دکھائی جاتی ہے

ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے

 نئی دنیا بنائی جاتی ہے

Wednesday, 2 October 2024

مانی ہے کسی نے کب کسی کی

 مانی ہے کسی نے کب کسی کی

فطرت ہی یہی ہے آدمی کی

ہر سانس ہماری زندگی کی

دیتی ہے دُہائی آپ ہی کی

سو بار گئے ہیں ان کے آگے

جی ہی میں رہی ہے حیف جی کی 

Saturday, 31 July 2021

ہے معمہ مری محبت بھی

 ہے معمہ مِری محبت بھی

شکر کے ساتھ ہے شکایت بھی 

دل کو پیاری ہے جس کی نفرت بھی 

کیا ہو گر وہ کرے محبت بھی 

دشمنِ اعتبار ہوتی ہے 

بعض حالات میں حقیقت بھی