Showing posts with label اعتبار ساجد. Show all posts
Showing posts with label اعتبار ساجد. Show all posts

Tuesday, 27 January 2026

حیات شمع کی صورت پگھلتی جاتی ہے

 حیات شمع کی صورت پگھلتی جاتی ہے

شبیں گزرتی ہیں اور عمر ڈھلتی جاتی ہے

ابھی تو ہجر کا یہ پہلا سنگِ میل ہوا

یہ رہگزر تو بہت دور چلتی جاتی ہے

ان آندھیوں میں سلامت نہیں کسی کا چراغ

اک اپنی شمعِ وفا ہے کہ جلتی جاتی ہے

Saturday, 5 November 2022

محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مری

 محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مِری

سب ساتھ تھے کسی سے رفاقت نہ تھی مری

حق کس سے مانگتا کہ مکینوں کے ساتھ ساتھ

دیوار و بام و در کو ضرورت نہ تھی مری

سچ بول کے بھی دیکھ لیا ان کے سامنے

لیکن انہیں پسند صداقت نہ تھی مری

Wednesday, 20 April 2022

متاع علم و فن کی اتنی ارزانی نہیں رکھتے

 متاعِ علم و فن کی اتنی ارزانی نہیں رکھتے

سو ہر محفل میں ہم شوقِ غزل خوانی نہیں رکھتے

چُنے جاتے ہیں ہم اوروں کی خاطر راہ کے کانٹے

مگر اپنے لے رستوں میں آسانی نہیں رکھتے

وہ کیا شاداب کر سکتے ہیں میری روحِ تشنہ کو

جو اپنی آنکھ میں بھی بوند بھر پانی نہیں رکھتے

Sunday, 3 April 2022

سوچ لینا غم و آلام بہت آتے ہیں

 سوچ لینا، غم و آلام بہت آتے ہیں

سر پہ اس راہ میں الزام بہت آتے ہیں

جب ضرورت تھی، سفر میں کوئی ساتھی نہ ملا

پا شکستہ ہوں تو پیغام بہت آتے ہیں

دن تو اس شہر کی رونق میں گزر جاتا ہے

یاد کچھ لوگ سرِ شام بہت یاد آتے ہیں

Wednesday, 30 March 2022

بہت ممکن تھا میرے پاؤں کے کانٹے نکل جاتے

 بہت ممکن تھا

میرے پاؤں، میرے زیست کے

کانٹے نکل جاتے

بہت ممکن تھا

میری راہ کے پتھر پگھل جاتے

جو دیواریں میرے رستے میں حائل تھیں

Friday, 25 February 2022

تیری چاہت کی صلیبوں سے اتارے ہوئے لوگ

تیری چاہت کی صلیبوں سے اُتارے ہوئے لوگ

در بدر پھرتے ہیں تنہائی کے مارے ہوئے لوگ

اب بھی شاداب ہیں ہم، تیری محبت کے طفیل

ایسے ہوتے تو نہیں ہجر گزارے ہوئے لوگ

ورنہ تو گردِ زمانہ میں دبے رہتے ہیں

زیست کے آئینہ خانوں میں سنوارے ہوئے لوگ

Friday, 21 January 2022

آج کی صبح بہت سندر تھی

 میرے سرہانے

چائے کی پیالی رکھتے رکھتے

جھک کر

میری بند آنکھوں پر

اپنے ہونٹوں کے دو پھول بھی رکھ دو

تاکہ سارا دن

Tuesday, 10 August 2021

جب گلیاں گلیاں ہوتی تھیں اور سچے رشتے ہوتے تھے

 سچے رشتے ہوتے تھے


جب گلیاں، گلیاں ہوتی تھیں

اور سچے رشتے ہوتے تھے

آس پڑوس میں رہنےوالے

مامے اور تائے ہوتےتھے

(کب وہ ہمسائے ہوتےتھے؟)

ڈانٹ ڈپٹ استاد کی سن کر

Friday, 18 December 2020

آج کا دن بھی اچھا ہو گا

آج کا دن بھی اچھا ہو گا


 میرے سرہانے

چائے کی پیالی رکھتے رکھتے

جھک کر

میری بند آنکھوں پر

اپنے ہونٹوں کے دو پھول بھی رکھ دو

Wednesday, 2 December 2020

پرندے لوٹ کر آئیں گے، کیوں مایوس ہوتے ہو

 پرندے لوٹ کر آئیں گے، کیوں مایوس ہوتے ہو

نئے غنچے چٹخ جائیں گے، کیوں مایوس ہوتے ہو

طہارت اور عبادت کا نتیجہ دیکھ لو گے تم

یہ جرثومے بھی مر جائیں گے، کیوں مایوس ہوتے ہو

طواف خانۂ کعبہ بھی پھر ہو جائے گا جاری

یہ رخنے پھر نہیں آئیں گے، کیوں مایوس ہوتے ہو

Friday, 23 October 2020

بچھڑے تو قربتوں کی دعا بھی نہ کر سکے

 بچھڑے تو قربتوں کی دعا بھی نہ کر سکے

اب کے تجھے سپرد خدا بھی نہ کر سکے

تقسیم ہو کے ره گئے خود کرچیوں میں ہم

نام وفا کا قرض ادا بھی نہ کر سکے

نازک مزاج لوگ تھے ہم جیسے آئینہ

ٹوٹے کچھ اس طرح کہ صدا بھی نہ کر سکے

Friday, 25 September 2020

مجھ سے مخلص تھا نہ واقف مرے جذبات سے تھ

 مجھ سے مخلص تھا نہ واقف مِرے جذبات سے تھا

اس کا رشتہ تو فقط اپنے مفادات سے تھا

اب جو بچھڑا ہے تو کیا روئیں جدائی پہ تری

یہی اندیشہ ہمیں پہلی ملاقات سے تھا

دل کے بجھنے کا ہواؤں سے گلا کیا کرنا

یہ دِیا نزع کے عالم میں تو کل رات سے تھا

Thursday, 9 January 2020

ایسے نہ تھے ہم اہل دل اتنے کہاں خراب تھے

ایسے نہ تھے ہم اہلِ دل، اتنے کہاں خراب تھے
ہم بھی کسی کی آس تھے، ہم بھی کسی کا خواب تھے
اب جو ہوئے ہیں خیر سے، راندۂ خلقِ شہر ہم
چہرۂ شب کا نور تھے، شیشۂ فن کی آب تھے
دل پہ کسی کے نقش تھے صورتِ حرفِ آرزو
اس کی کتابِ زیست میں لائقِ انتساب تھے

زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیا

زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیا
کیا کیا ہم نے کشٹ کمائے کہاں کہاں نروان لیا
نقش دیئے تِری آشاؤں کو عکس دیئے تِرے سپنوں کو
لیکن دیکھ ہماری حالت وقت نے کیا تاوان لیا
اشکوں میں ہم گوندھ چکے تھے اس کے لمس کی خوشبو کو
موم کے پھول بنانے بیٹھے لیکن دھوپ نے آن لیا

کیے رسمی رسمی مکالمے مجھے دل سے پیار نہیں کیا

کیے رسمی رسمی مکالمے مجھے دل سے پیار نہیں کیا
مجھے اعتبار تو کہہ دیا، مِرا اعتبار نہیں کیا
مِری فردِ جرم سے آشنا سبھی جانتے ھیں یہ ماجرا
کہ سوائے صبر کے راستہ کوئی اختیار نہیں کیا
مِرے رفتگان نے یہ کہہ دیا کہ ملیں گے اگلے پڑاؤ پر
بڑی عجلتوں میں تھے ہمسفر، مِرا انتظار نہیں کیا

اس زخم جاں کے نام جو اب تک نہیں‌ بھرا

انتساب

اس زخمِ جاں کے نام، جو اب تک نہیں‌ بھرا
اس زندہ دل کے نام، جو اب تک نہیں مرا
اس زندگی کے نام، گزارا نہیں جسے
اس قرضِ فن کے نام، اتارا نہیں جسے
اہلِ نظر کے نام، جو جوہر شناس ہیں
اہلِ وفا کے نام، جو فن کی اساس ہیں

Friday, 20 September 2019

اکیلے ایک ہم نہیں

اکیلے ایک ہم نہیں

کبھی کبھی یہ سوچ کر بهی
اپنے رنج کم ہوئے
کہ اس کٹهن سراب میں
حیات کے عذاب میں
اکیلے ایک ہم نہیں
بہت ہیں لوگ اور بهی

تو کیا تم اتنی ظالم ہو

تو کیا

تو کیا تم اتنی ظالم ہو
مِرے تیمار داروں سے
مسیحا جب یہ کہہ دیں گے
دوا تاثیر کھو بیٹھی
دُعا کا وقت آ پہنچا

Sunday, 10 June 2018

سارے رشتے محترم ہوتے ہیں لیکن ماں سے کم

سارے رشتے محترم
ہوتے ہیں، لیکن ماں سے کم
ماں سے بڑھ
کر کون 
ہوتا ہے شریکِ رنج و غم؟

اعتبار ساجد

مرے بچے مجھ سے پوچھتے ہیں

مرے بچے مجھ سے پوچھتے ہیں
کیوں اتنا لکھتے ہیں پاپا؟
اتنی تو کتابیں لکھ ڈالیں
اتنی تو شہرت حاصل کی
اتنی تو عزت حاصل کی
اب اور بھلا کیا چاہتے ہیں؟