حیات شمع کی صورت پگھلتی جاتی ہے
شبیں گزرتی ہیں اور عمر ڈھلتی جاتی ہے
ابھی تو ہجر کا یہ پہلا سنگِ میل ہوا
یہ رہگزر تو بہت دور چلتی جاتی ہے
ان آندھیوں میں سلامت نہیں کسی کا چراغ
اک اپنی شمعِ وفا ہے کہ جلتی جاتی ہے
حیات شمع کی صورت پگھلتی جاتی ہے
شبیں گزرتی ہیں اور عمر ڈھلتی جاتی ہے
ابھی تو ہجر کا یہ پہلا سنگِ میل ہوا
یہ رہگزر تو بہت دور چلتی جاتی ہے
ان آندھیوں میں سلامت نہیں کسی کا چراغ
اک اپنی شمعِ وفا ہے کہ جلتی جاتی ہے
محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مِری
سب ساتھ تھے کسی سے رفاقت نہ تھی مری
حق کس سے مانگتا کہ مکینوں کے ساتھ ساتھ
دیوار و بام و در کو ضرورت نہ تھی مری
سچ بول کے بھی دیکھ لیا ان کے سامنے
لیکن انہیں پسند صداقت نہ تھی مری
متاعِ علم و فن کی اتنی ارزانی نہیں رکھتے
سو ہر محفل میں ہم شوقِ غزل خوانی نہیں رکھتے
چُنے جاتے ہیں ہم اوروں کی خاطر راہ کے کانٹے
مگر اپنے لے رستوں میں آسانی نہیں رکھتے
وہ کیا شاداب کر سکتے ہیں میری روحِ تشنہ کو
جو اپنی آنکھ میں بھی بوند بھر پانی نہیں رکھتے
سوچ لینا، غم و آلام بہت آتے ہیں
سر پہ اس راہ میں الزام بہت آتے ہیں
جب ضرورت تھی، سفر میں کوئی ساتھی نہ ملا
پا شکستہ ہوں تو پیغام بہت آتے ہیں
دن تو اس شہر کی رونق میں گزر جاتا ہے
یاد کچھ لوگ سرِ شام بہت یاد آتے ہیں
بہت ممکن تھا
میرے پاؤں، میرے زیست کے
کانٹے نکل جاتے
بہت ممکن تھا
میری راہ کے پتھر پگھل جاتے
جو دیواریں میرے رستے میں حائل تھیں
تیری چاہت کی صلیبوں سے اُتارے ہوئے لوگ
در بدر پھرتے ہیں تنہائی کے مارے ہوئے لوگ
اب بھی شاداب ہیں ہم، تیری محبت کے طفیل
ایسے ہوتے تو نہیں ہجر گزارے ہوئے لوگ
ورنہ تو گردِ زمانہ میں دبے رہتے ہیں
زیست کے آئینہ خانوں میں سنوارے ہوئے لوگ
میرے سرہانے
چائے کی پیالی رکھتے رکھتے
جھک کر
میری بند آنکھوں پر
اپنے ہونٹوں کے دو پھول بھی رکھ دو
تاکہ سارا دن
سچے رشتے ہوتے تھے
جب گلیاں، گلیاں ہوتی تھیں
اور سچے رشتے ہوتے تھے
آس پڑوس میں رہنےوالے
مامے اور تائے ہوتےتھے
(کب وہ ہمسائے ہوتےتھے؟)
ڈانٹ ڈپٹ استاد کی سن کر
آج کا دن بھی اچھا ہو گا
میرے سرہانے
چائے کی پیالی رکھتے رکھتے
جھک کر
میری بند آنکھوں پر
اپنے ہونٹوں کے دو پھول بھی رکھ دو
پرندے لوٹ کر آئیں گے، کیوں مایوس ہوتے ہو
نئے غنچے چٹخ جائیں گے، کیوں مایوس ہوتے ہو
طہارت اور عبادت کا نتیجہ دیکھ لو گے تم
یہ جرثومے بھی مر جائیں گے، کیوں مایوس ہوتے ہو
طواف خانۂ کعبہ بھی پھر ہو جائے گا جاری
یہ رخنے پھر نہیں آئیں گے، کیوں مایوس ہوتے ہو
بچھڑے تو قربتوں کی دعا بھی نہ کر سکے
اب کے تجھے سپرد خدا بھی نہ کر سکے
تقسیم ہو کے ره گئے خود کرچیوں میں ہم
نام وفا کا قرض ادا بھی نہ کر سکے
نازک مزاج لوگ تھے ہم جیسے آئینہ
ٹوٹے کچھ اس طرح کہ صدا بھی نہ کر سکے
مجھ سے مخلص تھا نہ واقف مِرے جذبات سے تھا
اس کا رشتہ تو فقط اپنے مفادات سے تھا
اب جو بچھڑا ہے تو کیا روئیں جدائی پہ تری
یہی اندیشہ ہمیں پہلی ملاقات سے تھا
دل کے بجھنے کا ہواؤں سے گلا کیا کرنا
یہ دِیا نزع کے عالم میں تو کل رات سے تھا