سچے رشتے ہوتے تھے
جب گلیاں، گلیاں ہوتی تھیں
اور سچے رشتے ہوتے تھے
آس پڑوس میں رہنےوالے
مامے اور تائے ہوتےتھے
(کب وہ ہمسائے ہوتےتھے؟)
ڈانٹ ڈپٹ استاد کی سن کر
شکلِ پدر یاد آ جاتی تھی
کوئی پڑوسن چیخ کے کہتی؛
وے پتر! جب سودا لانا
میری طرف بھی ہوتے جانا
کیسی ممتا، کیسی محبت
ان لفظوں میں ہوتی تھی
چوٹ مجھےجب کوئی لگتی
میری ماں کے گلے سےلگ کر
ہمسائی بھی روتی تھی
اور اب، میں تنہا روتا ہوں
جب کوئی چوٹ مجھے لگتی ہے
(جسم پہ ہو یا میرے دل پر)
میرے آنسو پونچھنے والے
سارے دامن خاک نشیں ہیں
اب اس شہر میں بسنے والے
صرف ہیں اپنے، میرے نہیں ہیں
اعتبار ساجد
No comments:
Post a Comment