Tuesday, 10 August 2021

تخلیق داستاں میں کروں اک غریب کی

 تخلیق داستاں میں کروں اک غریب کی

روداد دل خراش ہے اس بد نصیب کی

رہتے تھے ایک گھر میں فقط پانچ ہی نفر

غربت کی مار ایسی کے ہوتی نہ تھی گزر

بیمار باپ تھا تو وہ کرتا بھی کام کیا

اس کے برے نصیب تھے اس میں کلام کیا

امراض اتنے بڑھ گئے آخر وہ چل بسا

پھر مفلسی نے گھر پہ شکنجہ ہی آ کسا

اک بھائی، دو بہن تھیں، پریشان ایک ماں

افراد گھر میں چار مگر تھے وہ بے اماں

مرتے ہی باپ کے ہوا کچھ اتنا اہتمام

ہمسائے کھانا لائے روایت میں ہے جو عام

کھانا پڑوسیوں نے فقط تین دن دیا

پھر بعد میں خیال کسی نے نہیں کیا

کھانے کا آسرا جو گیا فاقے ہو گئے

دو روز بچے رات کو بھوکے ہی سو گئے

ماں یہ سمجھ نہ پائی کے آخر وہ کیا کرے

کیسے وہ تین بچوں کے اب پیٹ کو بھرے

دو روز ان کے اور اسی طور کٹ گئے

بچے تڑپ سے بھوک کی، ماں سے لپٹ گئے

ان تین میں سے چھوٹی تو مرجھا کے رہ گئی

معصوم سی کلی تھی وہ کمہلا کے رہ گئی

اس کی ابھی تو عمر ہی بس چار سال تھی

نادان تھی وہ عقل بھی بس خال خال تھی

کہنے لگی؛ بتائیے بھائی مرے گا کب

امی ہمیں پڑوس سے کھانا ملے گا تب

ابو مرے تو آئے تھے سب اب بھی آئیں گے

بھائی اگر مرے تو ہمیں پھر کھلائیں گے

سن کر یہ بات آنکھوں سے دریا اُبل پڑا

اُس ماں کا غم میں جیسے کلیجہ نکل پڑا

اس بات پر بھی تیرا لرزتا نہیں جو دل

کس کام کا ہے اب بھی تڑپتا نہیں جو دل

ارشاد، اس طرح نہ کسی کا کوئی مرے

پیغام اہلِ زر کو ہے، گر کچھ اثر کرے


ارشاد دہلوی

No comments:

Post a Comment