تخلیق داستاں میں کروں اک غریب کی
روداد دل خراش ہے اس بد نصیب کی
رہتے تھے ایک گھر میں فقط پانچ ہی نفر
غربت کی مار ایسی کے ہوتی نہ تھی گزر
بیمار باپ تھا تو وہ کرتا بھی کام کیا
اس کے برے نصیب تھے اس میں کلام کیا
امراض اتنے بڑھ گئے آخر وہ چل بسا
پھر مفلسی نے گھر پہ شکنجہ ہی آ کسا
اک بھائی، دو بہن تھیں، پریشان ایک ماں
افراد گھر میں چار مگر تھے وہ بے اماں
مرتے ہی باپ کے ہوا کچھ اتنا اہتمام
ہمسائے کھانا لائے روایت میں ہے جو عام
کھانا پڑوسیوں نے فقط تین دن دیا
پھر بعد میں خیال کسی نے نہیں کیا
کھانے کا آسرا جو گیا فاقے ہو گئے
دو روز بچے رات کو بھوکے ہی سو گئے
ماں یہ سمجھ نہ پائی کے آخر وہ کیا کرے
کیسے وہ تین بچوں کے اب پیٹ کو بھرے
دو روز ان کے اور اسی طور کٹ گئے
بچے تڑپ سے بھوک کی، ماں سے لپٹ گئے
ان تین میں سے چھوٹی تو مرجھا کے رہ گئی
معصوم سی کلی تھی وہ کمہلا کے رہ گئی
اس کی ابھی تو عمر ہی بس چار سال تھی
نادان تھی وہ عقل بھی بس خال خال تھی
کہنے لگی؛ بتائیے بھائی مرے گا کب
امی ہمیں پڑوس سے کھانا ملے گا تب
ابو مرے تو آئے تھے سب اب بھی آئیں گے
بھائی اگر مرے تو ہمیں پھر کھلائیں گے
سن کر یہ بات آنکھوں سے دریا اُبل پڑا
اُس ماں کا غم میں جیسے کلیجہ نکل پڑا
اس بات پر بھی تیرا لرزتا نہیں جو دل
کس کام کا ہے اب بھی تڑپتا نہیں جو دل
ارشاد، اس طرح نہ کسی کا کوئی مرے
پیغام اہلِ زر کو ہے، گر کچھ اثر کرے
ارشاد دہلوی
No comments:
Post a Comment