Showing posts with label مہیش چندر نقش. Show all posts
Showing posts with label مہیش چندر نقش. Show all posts

Saturday, 25 February 2023

پر کیف بہاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

 پُر کیف بہاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

ہاں ان کے نظاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

طوفان کا شیوہ تو ہے کشتی کو ڈبونا

خاموش کناروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

اس ڈوبتے سورج سے تو امید ہی کیا تھی

ہنس ہنس کے ستاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

Monday, 7 March 2022

ان کے گیسو سنورتے جاتے ہیں

 ان کے گیسو سنورتے جاتے ہیں

حادثے ہیں گزرتے جاتے ہیں

وقت سنتا ہے جن کی آوازیں

ہائے وہ لوگ مرتے جاتے ہیں

ڈوبنے والے موج طوفاں سے

جانے کیا بات کرتے جاتے ہیں

Sunday, 13 February 2022

اب وہ کہتے ہیں مدعا کہیے

 اب وہ کہتے ہیں مدعا کہیے

سوچتا ہوں کہ نقش کیا کہیے

زندگی زندگی سے روٹھ گئی

ہائے اب کس کو آشنا کہیے

ہے تغافل کا کیوں گلہ ان سے

آہِ سوزاں کو نارسا کہیے

Monday, 10 January 2022

جیتا ہوں جو مر مر کے یہ جینا تو نہیں ہے

 جیتا ہوں جو مر مر کے یہ جینا تو نہیں ہے

دنیا مِرے احساس کی دنیا تو نہیں ہے

کہنے کو تو ہے دیدۂ نرگس میں بھی جادو

ہر آنکھ میں تصویرِ تمنا تو نہیں ہے

یہ حسن کے جلوے یہ فضاؤں کا ترنم

یہ شامِ چمن، شامِ کلیسا تو نہیں ہے

Sunday, 9 January 2022

ہے آفت جاں حسن کی شوخی بھی ادا بھی

 ہے آفتِ جاں حسن کی شوخی بھی ادا بھی

ہونٹوں پہ تبسم بھی ہے نظروں میں حیا بھی

شامل تِری آواز میں تاروں کی نوا بھی

شرمندہ تِرے نور سے کرنوں کی ضیا بھی

محفل ہے کہ مطرب کے اشاروں پہ مٹی ہے

سنتا ہے کوئی سازِ شکستہ کی صدا بھی

Thursday, 24 June 2021

تسکین دے سکیں گے نہ جام و سبو مجھے

 تسکین دے سکیں گے نہ جام و سبو مجھے

بے چین کر رہی ہے تِری آرزو مجھے

مجھ سے تلاشِ راہ کی دشواریاں نہ پوچھ

بھٹکا رہا ہے ذوقِ سفر چار سُو مجھے

بزمِ اثر فریب کی تبدیلیاں تو دیکھ

مغموم آ رہے ہیں نظر خوبرو مجھے