پُر کیف بہاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے
ہاں ان کے نظاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے
طوفان کا شیوہ تو ہے کشتی کو ڈبونا
خاموش کناروں نے بھی دل توڑ دیا ہے
اس ڈوبتے سورج سے تو امید ہی کیا تھی
ہنس ہنس کے ستاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے
پُر کیف بہاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے
ہاں ان کے نظاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے
طوفان کا شیوہ تو ہے کشتی کو ڈبونا
خاموش کناروں نے بھی دل توڑ دیا ہے
اس ڈوبتے سورج سے تو امید ہی کیا تھی
ہنس ہنس کے ستاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے
ان کے گیسو سنورتے جاتے ہیں
حادثے ہیں گزرتے جاتے ہیں
وقت سنتا ہے جن کی آوازیں
ہائے وہ لوگ مرتے جاتے ہیں
ڈوبنے والے موج طوفاں سے
جانے کیا بات کرتے جاتے ہیں
اب وہ کہتے ہیں مدعا کہیے
سوچتا ہوں کہ نقش کیا کہیے
زندگی زندگی سے روٹھ گئی
ہائے اب کس کو آشنا کہیے
ہے تغافل کا کیوں گلہ ان سے
آہِ سوزاں کو نارسا کہیے
جیتا ہوں جو مر مر کے یہ جینا تو نہیں ہے
دنیا مِرے احساس کی دنیا تو نہیں ہے
کہنے کو تو ہے دیدۂ نرگس میں بھی جادو
ہر آنکھ میں تصویرِ تمنا تو نہیں ہے
یہ حسن کے جلوے یہ فضاؤں کا ترنم
یہ شامِ چمن، شامِ کلیسا تو نہیں ہے
ہے آفتِ جاں حسن کی شوخی بھی ادا بھی
ہونٹوں پہ تبسم بھی ہے نظروں میں حیا بھی
شامل تِری آواز میں تاروں کی نوا بھی
شرمندہ تِرے نور سے کرنوں کی ضیا بھی
محفل ہے کہ مطرب کے اشاروں پہ مٹی ہے
سنتا ہے کوئی سازِ شکستہ کی صدا بھی
تسکین دے سکیں گے نہ جام و سبو مجھے
بے چین کر رہی ہے تِری آرزو مجھے
مجھ سے تلاشِ راہ کی دشواریاں نہ پوچھ
بھٹکا رہا ہے ذوقِ سفر چار سُو مجھے
بزمِ اثر فریب کی تبدیلیاں تو دیکھ
مغموم آ رہے ہیں نظر خوبرو مجھے