Monday, 7 March 2022

ان کے گیسو سنورتے جاتے ہیں

 ان کے گیسو سنورتے جاتے ہیں

حادثے ہیں گزرتے جاتے ہیں

وقت سنتا ہے جن کی آوازیں

ہائے وہ لوگ مرتے جاتے ہیں

ڈوبنے والے موج طوفاں سے

جانے کیا بات کرتے جاتے ہیں

یوں گزرتے ہیں ہجر کے لمحے

جیسے وہ بات کرتے جاتے ہیں

ہوش میں آ رہے ہیں دیوانے

کس کے جلوے بکھرتے جاتے ہیں

کیا خبر آج کس کی یادوں کے

نقش دل پر ابھرتے جاتے ہیں


مہیش چندر نقش

No comments:

Post a Comment