Monday, 7 March 2022

فصیل ذات میں رہنا پڑے گا

 فصیلِ ذات میں رہنا پڑے گا

مجھے اوقات میں رہنا پڑے گا

ابھی تم آنکھ میں آ جاؤ لیکن

تمہیں برسات رہنا پڑے گا

تمہارا آبگینوں سا وہ لہجہ

تمہاری بات رہنا پڑے گا

کہیں پھر وار کر جانے نہ دشمن

مجھے اس گھات رہنا پڑے گا

اجالے بانٹنے کا شوق ہے تو

اندھیری رات میں رہنا پڑے گا

تمہیں میں جیت تو سکتا ہوں جاذب

مجھے پر مات رہنا پڑے گا


انصر جاذب

No comments:

Post a Comment