Monday, 7 March 2022

عام سی لڑکی ہوں میں راجکماری کب ہوں

 عام سی لڑکی ہوں میں راجکماری کب ہوں

ساری دنیا کو خبر ہے کہ تمہاری کب ہوں

مستقل عشق میں پسپائی نہیں تھی میری

تازہ دم ہو کے پلٹ آئی ہوں، ہاری کب ہوں

کس لیے شب مجھے بے خواب سمجھنے لگی ہے

مجھ سے کہتی ہے کہ میں نیند کی ماری کب ہوں

یہ جو اب تک تِرے غم میں مِری آنکھیں نم ہیں

میں اُبھاگن تِرے احساس سے عاری کب ہوں


شہلا شہناز

No comments:

Post a Comment