عام سی لڑکی ہوں میں راجکماری کب ہوں
ساری دنیا کو خبر ہے کہ تمہاری کب ہوں
مستقل عشق میں پسپائی نہیں تھی میری
تازہ دم ہو کے پلٹ آئی ہوں، ہاری کب ہوں
کس لیے شب مجھے بے خواب سمجھنے لگی ہے
مجھ سے کہتی ہے کہ میں نیند کی ماری کب ہوں
یہ جو اب تک تِرے غم میں مِری آنکھیں نم ہیں
میں اُبھاگن تِرے احساس سے عاری کب ہوں
شہلا شہناز
No comments:
Post a Comment