Showing posts with label ماہ پارہ صفدر. Show all posts
Showing posts with label ماہ پارہ صفدر. Show all posts

Friday, 20 August 2021

زندگی چیختی سنائی دے

 زندگی چیختی سُنائی دے

جیسے ہر شخص یہاں دُہائی دے

آ گیا وقت وہ کہ خود منصف

جُرم کے حق میں اب گواہی دے

راہ میں شام کی ہوئے پہرے

راستہ کس طرح سُجھائی دے

Sunday, 8 August 2021

رکھ لینا بھرم میرا ماہیے کہنے ہیں

محترمہ ماہ پارہ صفدر صاحبہ کے چند ماہیے


رکھ لینا بھرم میرا

ماہیے کہنے ہیں

یارب ہو کرم تیرا


دم اس کا بھرتی ہوں

پہلے ماہیے کو

نام اللہ کے کرتی ہوں

Saturday, 10 April 2021

ساتھ ہے اس کا سر کی دنیا ساتھی ہے آواز

 ساتھ ہے اس کا سُر کی دنیا ساتھی ہے آواز

ہم نے اپنی آنکھوں سے خود دیکھی ہے آواز

کاش تمہارے دل میں بھی اک ساتھ اُتر جاتی

میری سوچ کے دریا سے جو اُٹھی ہے آواز

جنگل جنگل پھیل رہی ہوتی ہے اک خُوشبو

نرم ملائم جھیلوں میں جب اُگتی ہے آواز

Friday, 9 April 2021

یوں غم ذات کے نصاب میں ہوں

 یوں غم ذات کے نصاب میں ہوں

گویا بے نام اک عتاب میں ہوں

تم کبھی جو کتاب زیست پڑھو

مجھ کو پڑھنا، ادھورے باب میں ہوں

کانچ کے گھر تو یوں ہی ٹوٹتے ہیں

پھر بھلا کیوں میں اضطراب میں ہوں

Friday, 2 April 2021

اک ادھورا سا خواب ہو جیسے

 اک ادھورا سا خواب ہو جیسے

زندگانی کتاب ہو جیسے

میری آنکھوں کے ریگزاروں میں

اک مسلسل سراب ہو جیسے

منتشر منتشر رہی ایسی

بکھرا بکھرا گلاب ہو جیسے