زندگی چیختی سُنائی دے
جیسے ہر شخص یہاں دُہائی دے
آ گیا وقت وہ کہ خود منصف
جُرم کے حق میں اب گواہی دے
راہ میں شام کی ہوئے پہرے
راستہ کس طرح سُجھائی دے
زندگی چیختی سُنائی دے
جیسے ہر شخص یہاں دُہائی دے
آ گیا وقت وہ کہ خود منصف
جُرم کے حق میں اب گواہی دے
راہ میں شام کی ہوئے پہرے
راستہ کس طرح سُجھائی دے
محترمہ ماہ پارہ صفدر صاحبہ کے چند ماہیے
رکھ لینا بھرم میرا
ماہیے کہنے ہیں
یارب ہو کرم تیرا
دم اس کا بھرتی ہوں
پہلے ماہیے کو
نام اللہ کے کرتی ہوں
ساتھ ہے اس کا سُر کی دنیا ساتھی ہے آواز
ہم نے اپنی آنکھوں سے خود دیکھی ہے آواز
کاش تمہارے دل میں بھی اک ساتھ اُتر جاتی
میری سوچ کے دریا سے جو اُٹھی ہے آواز
جنگل جنگل پھیل رہی ہوتی ہے اک خُوشبو
نرم ملائم جھیلوں میں جب اُگتی ہے آواز
یوں غم ذات کے نصاب میں ہوں
گویا بے نام اک عتاب میں ہوں
تم کبھی جو کتاب زیست پڑھو
مجھ کو پڑھنا، ادھورے باب میں ہوں
کانچ کے گھر تو یوں ہی ٹوٹتے ہیں
پھر بھلا کیوں میں اضطراب میں ہوں
اک ادھورا سا خواب ہو جیسے
زندگانی کتاب ہو جیسے
میری آنکھوں کے ریگزاروں میں
اک مسلسل سراب ہو جیسے
منتشر منتشر رہی ایسی
بکھرا بکھرا گلاب ہو جیسے