ساتھ ہے اس کا سُر کی دنیا ساتھی ہے آواز
ہم نے اپنی آنکھوں سے خود دیکھی ہے آواز
کاش تمہارے دل میں بھی اک ساتھ اُتر جاتی
میری سوچ کے دریا سے جو اُٹھی ہے آواز
جنگل جنگل پھیل رہی ہوتی ہے اک خُوشبو
نرم ملائم جھیلوں میں جب اُگتی ہے آواز
اس سے میرا رشتہ سب رشتوں سے بڑھ کر ہے
میں تو تھک کر سو جاتی ہوں جاگتی ہے آواز
یہ تو سچ ہے ماہ پارہ میں بول نہیں سکتی
لیکن میرا پیچھا کرتی رہتی ہے آواز
ماہ پارہ صفدر
No comments:
Post a Comment