یوم مئی یوم مزدور پہ
چہرے ہیں ندامت سے شرابور ہمارے
ہیں آج بھی کچھ کام پہ مزدور ہمارے
غربت کے پسینے سے بدن ڈھانپ رہے ہیں
کچھ اتنی تھکاوٹ ہے کہ سب ہانپ رہے ہیں
بے کار ہیں سب عنبر و کافور ہمارے
ہیں آج بھی کچھ کام پہ مزدور ہمارے
یوم مئی یوم مزدور پہ
چہرے ہیں ندامت سے شرابور ہمارے
ہیں آج بھی کچھ کام پہ مزدور ہمارے
غربت کے پسینے سے بدن ڈھانپ رہے ہیں
کچھ اتنی تھکاوٹ ہے کہ سب ہانپ رہے ہیں
بے کار ہیں سب عنبر و کافور ہمارے
ہیں آج بھی کچھ کام پہ مزدور ہمارے
کون کہتا ہے کہ تصویر میں کم آتا ہے
آنکھ کا خواب ہی تعبیر میں کم آتا ہے
آپ چل کر میں تِرے دل کی طرف کیا جاتا
یہ علاقہ مِری جاگیر میں کم آتا ہے
مجھ پہ یوں چھاوں نہ کر آ کے گھٹا کی صورت
دل مِرا زلفِ گِرہ گیر میں کم آتا ہے
کیا بتاؤں کہ کس مکان سے ہوں
میں زمیں پر بھی آسمان سے ہوں
عشق میں کیسے جھوٹ بولوں میں
روزہ رکھی ہوئی زبان سے ہوں
تُو اندھیرے میں دیکھ حُسن مِرا
میں چراغوں کے خاندان سے ہوں
عذابِ جان کا یا رب یوں امتحان نہ ہو
خزاں کا پھول بہاروں کے درمیان نہ ہو
زرا سی دیر کوئی مسکرا دیا ہے تو کیا
اب اس قدر بھی مِری جان خوشگمان نہ ہو
کہیں زمیں پہ کوئی راستہ بتا ایسا
کہ ساری عمر چلوں جس پر اور تھکان نہ ہو
پہلے چادر یہ سر پہ تان کے دیکھ
پھر، سبھی رنگ آسمان کے دیکھ
عشق میں کیسی حجتیں جاناں؟
میں نے جو کچھ كہا ہے مان کے دیکھ
اپنی مٹی کو زر نہیں کرتا
مجھ سے کہتا ہے خاک چھان کے دیکھ
ضعیفی اس لیے مجھ کو سہانی لگتی ہے
اسے کمانے میں پوری جوانی لگتی ہے
نتیجہ یہ ہے کہ برسوں تلاشِ ذات کے بعد
وہاں کھڑا ہوں جہاں ریت پانی لگتی ہے
تُو میرے جسم کو چھو کر بتا میں کیسا ہوں
مجھے تو خاک یہ صدیوں پرانی لگتی ہے