Showing posts with label خالد سجاد. Show all posts
Showing posts with label خالد سجاد. Show all posts

Wednesday, 1 May 2024

ہیں آج بھی کچھ کام پہ مزدور ہمارے

 یوم مئی یوم مزدور پہ


چہرے ہیں ندامت سے شرابور ہمارے 

ہیں آج بھی کچھ کام پہ مزدور ہمارے

غربت کے پسینے سے بدن ڈھانپ رہے ہیں 

کچھ اتنی تھکاوٹ ہے کہ سب ہانپ رہے ہیں 

بے کار ہیں سب عنبر و کافور ہمارے 

ہیں آج بھی کچھ کام پہ مزدور ہمارے

Wednesday, 2 March 2022

کون کہتا ہے کہ تصویر میں کم آتا ہے

 کون کہتا ہے کہ تصویر میں کم آتا ہے

آنکھ کا خواب ہی تعبیر میں کم آتا ہے

آپ چل کر میں تِرے دل کی طرف کیا جاتا

یہ علاقہ مِری جاگیر میں کم آتا ہے

مجھ پہ یوں چھاوں نہ کر آ کے گھٹا کی صورت

دل مِرا زلفِ گِرہ گیر میں کم آتا ہے

Sunday, 23 January 2022

کیا بتاؤں کہ کس مکان سے ہوں

 کیا بتاؤں کہ کس مکان سے ہوں

میں زمیں پر بھی آسمان سے ہوں

عشق میں کیسے جھوٹ بولوں میں

روزہ رکھی ہوئی زبان سے ہوں

تُو اندھیرے میں دیکھ حُسن مِرا

میں چراغوں کے خاندان سے ہوں

Tuesday, 9 November 2021

عذاب جان کا یا رب یوں امتحان نہ ہو

 عذابِ جان کا یا رب یوں امتحان نہ ہو

خزاں کا پھول بہاروں کے درمیان نہ ہو

زرا سی دیر کوئی مسکرا دیا ہے تو کیا

اب اس قدر بھی مِری جان خوشگمان نہ ہو

کہیں زمیں پہ کوئی راستہ بتا ایسا

کہ ساری عمر چلوں جس پر اور تھکان نہ ہو

Thursday, 16 September 2021

پہلے چادر یہ سر پہ تان کے دیکھ

 پہلے چادر یہ سر پہ تان کے دیکھ

پھر، سبھی رنگ آسمان کے دیکھ

عشق میں کیسی حجتیں جاناں؟

میں نے جو کچھ كہا ہے مان کے دیکھ

اپنی مٹی کو زر نہیں کرتا

مجھ سے کہتا ہے خاک چھان کے دیکھ

Tuesday, 13 October 2020

کسی کے ہجر کی پہلی نشانی لگتی ہے

 ضعیفی اس لیے مجھ کو سہانی لگتی ہے

اسے کمانے میں پوری جوانی لگتی ہے

نتیجہ یہ ہے کہ برسوں تلاشِ ذات کے بعد

وہاں کھڑا ہوں جہاں ریت پانی لگتی ہے

تُو میرے جسم کو چھو کر بتا میں کیسا ہوں

مجھے تو خاک یہ صدیوں پرانی لگتی ہے

Sunday, 6 September 2020

پلا دے تو ہی کبھی چش یار ساری شراب

پلا دے تُو ہی کبھی چشم یار ساری شراب
کہ اب مزہ نہیں دیتی ہمیں ہماری شراب
یہ بات بات پہ لڑنے کا کوئی مطلب ہے؟
حضور چاہتی ہے دل کی بے قراری شراب
بچھڑ کے اس سے کہاں اب خماری کا
وہ چشمِ یار کہاں اور کہاں ہماری شراب

محبتوں کے ہر اک سمت شادیانے تھے

محبتوں کے ہر اک سمت شادیانے تھے
گزشتگاں کے زمانے بھی کیا زمانے تھے
سروں پہ رات جو آئی ہمیں خیال آیا
ابھی چراغ ہمیں اور بھی جلانے تھے
میں اس سے اس کا پتہ پوچھ کر بھی کیا کرتا
ہوا کے اپنے بھلا کون سے ٹھکانے تھے

Friday, 4 September 2020

منظر بنا ہوا ہوں نظارے کے ساتھ میں

منظر بنا ہوا ہوں نظارے کے ساتھ میں
کتنی نظر ملاؤں ستارے کے ساتھ میں
دریا سے ایک گھونٹ اٹھانے کے واسطے
بھاگا ہوں کتنی دور کنارے کے ساتھ میں
اک روز اپنے دل سے جھٹک دوں گا تیرا عشق
کھیلوں گا کتنی دیر شرارے کے ساتھ میں

Thursday, 3 September 2020

کوچہ عشق میں جو شور اٹھا ہے کوئی

کوچۂ عشق میں جو شور اٹھا ہے کوئی
تیری دہلیز کا دیوانہ ہوا ہے کوئی 
بس یہی سوچ کے میں خود میں سمٹ جاتا ہوں
پسِ دیوار مجھے دیکھ رہا ہے کوئی
میں تو مشکل سے گزر جاتا ہوں آسانی سے
میرے ہمراہ مِری ماں کی دعا ہے کوئی

دستکیں دے کے یہ اندازہ لگایا جائے

دستکیں دے کے یہ اندازہ لگایا جائے
کیسے دیوار میں دروازہ لگایا جائے
خوب تر جس کے خد و خال نہیں ہو سکتے
ایسے پتھر پہ بھی کیا غازہ لگایا جائے
اب ہمیں راس نہیں کوئی پرانی تہمت
ہم پہ الزام کوئی تازہ لگایا جائے

سفر دشوار اور رستہ بہت ہے

سفر دشوار، اور رستہ بہت ہے
سو گم ہونے کا بھی خدشہ بہت ہے
تجھے رخصت کروں گا ہنس کے بیٹی
رلانے کو تِری 🎎 گڑیا بہت ہے
یہ انسانوں کی بستی ہے کہ جنگل
جسے دیکھو وہی لڑتا بہت ہے
نہ ہم برگد نہ ہم پیپل ہیں پھر بھی
ہمارا دھوپ میں سایہ بہت ہے

Wednesday, 7 February 2018

اس نے فقط سلام کیا زیر لب مجھے

اس نے فقط سلام کیا زیرِ لب مجھے 
دل تک سنائی دینے لگا سب کا سب مجھے
اچھا کِیا ہے گھر میں پرندوں کو پال کر 
کچھ اور رزق دینے لگا میرا رب مجھے
تبدیل کر رہی ہے مِرے دن کو کس لیے 
اے رات دیکھنا ہی نہیں خواب اب مجھے

اک دیا جلتا رہا جس کو منانے کے لیے

اک دیا جلتا رہا جس کو منانے کے لئے 
اب وہ تیار نہیں خواب میں آنے کے لئے
گھوم کر دیکھ لی دنیا بھی مگر یہ نہ کھلا 
کون سا شہر مناسب ہے ٹھکانے کے لئے
لوٹ کر آیا نہیں چھوڑ کے جانے والا 
میں نے آواز تو دی اس کو بلانے کے لئے

تیرے چہرے کے ابھی خواب نہیں دیکھتا میں

تیرے چہرے کے ابھی خواب نہیں دیکھتا میں 
اس لئے رات کو مہتاب نہیں دیکھتا میں
اپنی مٹی کے اجالوں پہ یقیں ہے مجھ کو 
اب چراغوں کی تب و تاب نہیں دیکھتا میں
جو بھی سچ ہو میں اسے منہ پہ کہا کرتا ہوں 
خواہشِ حلقۂ احباب نہیں دیکھتا میں

یہی تو زیست میں سب سے بڑا خسارہ ہوا

یہی تو زیست میں سب سے بڑا خسارہ ہوا 
کہ لوٹ کر کبھی آیا نہ دن گزارا ہوا
پلک جھپکتے ہی بدلے ہیں اس جمال کے رنگ 
میں کیا بتاؤں کہاں کون سا نظارہ ہوا
وفا کے نام پر اس کو غلام چاہیئے تھا 
پھر اس کے ہاتھ کا میری طرف اشارہ ہوا