Sunday, 6 September 2020

محبتوں کے ہر اک سمت شادیانے تھے

محبتوں کے ہر اک سمت شادیانے تھے
گزشتگاں کے زمانے بھی کیا زمانے تھے
سروں پہ رات جو آئی ہمیں خیال آیا
ابھی چراغ ہمیں اور بھی جلانے تھے
میں اس سے اس کا پتہ پوچھ کر بھی کیا کرتا
ہوا کے اپنے بھلا کون سے ٹھکانے تھے
میں اس لیے بھی وہاں نقشِ پا بنا آیا
کہ میرے بعد کئی لوگ آنے جانے تھے
تُو ایک قصۂ غم سے ہی ڈر گیا پیارے
ابھی فسانے تجھے اور بھی سنانے تھے
ہوا نے رات اسی کو گرا دیا خالد
وہ جس شجر پہ پرندوں کے آشیانے تھے

خالد سجاد احمد

No comments:

Post a Comment