محبتوں کے ہر اک سمت شادیانے تھے
گزشتگاں کے زمانے بھی کیا زمانے تھے
سروں پہ رات جو آئی ہمیں خیال آیا
ابھی چراغ ہمیں اور بھی جلانے تھے
میں اس سے اس کا پتہ پوچھ کر بھی کیا کرتا
میں اس لیے بھی وہاں نقشِ پا بنا آیا
کہ میرے بعد کئی لوگ آنے جانے تھے
تُو ایک قصۂ غم سے ہی ڈر گیا پیارے
ابھی فسانے تجھے اور بھی سنانے تھے
ہوا نے رات اسی کو گرا دیا خالد
وہ جس شجر پہ پرندوں کے آشیانے تھے
خالد سجاد احمد
No comments:
Post a Comment