Sunday, 6 September 2020

پلا دے تو ہی کبھی چش یار ساری شراب

پلا دے تُو ہی کبھی چشم یار ساری شراب
کہ اب مزہ نہیں دیتی ہمیں ہماری شراب
یہ بات بات پہ لڑنے کا کوئی مطلب ہے؟
حضور چاہتی ہے دل کی بے قراری شراب
بچھڑ کے اس سے کہاں اب خماری کا
وہ چشمِ یار کہاں اور کہاں ہماری شراب
وہ پوچھتا تھا کہ تلخی میں کیسی لذت ہے
اسے بتاتے ہوئے حلق سے اتاری شراب
ہم اپنے گھر سے چلے سُوئے مےکدہ خالد
اداسیوں سے بھری شام جو پکاری شراب

خالد سجاد احمد

No comments:

Post a Comment