پلا دے تُو ہی کبھی چشم یار ساری شراب
کہ اب مزہ نہیں دیتی ہمیں ہماری شراب
یہ بات بات پہ لڑنے کا کوئی مطلب ہے؟
حضور چاہتی ہے دل کی بے قراری شراب
بچھڑ کے اس سے کہاں اب خماری کا
وہ پوچھتا تھا کہ تلخی میں کیسی لذت ہے
اسے بتاتے ہوئے حلق سے اتاری شراب
ہم اپنے گھر سے چلے سُوئے مےکدہ خالد
اداسیوں سے بھری شام جو پکاری شراب
خالد سجاد احمد
No comments:
Post a Comment