تیرے خوشبو میں بسے خط
پیار کی آخری پونجی بھی لٹا آیا ہوں
اپنی ہستی کو بھی لگتا ہے مٹا آیا ہوں
عمر بھر کی جو کمائی تھی گنوا آیا ہوں
تیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں
آگ بہتے ہوئے پانی میں لگا آیا ہوں
تیرے خوشبو میں بسے خط
پیار کی آخری پونجی بھی لٹا آیا ہوں
اپنی ہستی کو بھی لگتا ہے مٹا آیا ہوں
عمر بھر کی جو کمائی تھی گنوا آیا ہوں
تیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں
آگ بہتے ہوئے پانی میں لگا آیا ہوں
تمہاری یاد
رات کے سُرمئی اندھیروں میں
سانس لیتے ہوئے سویروں میں
آبجو کے حسیں کناروں پر
خواب آلود رہگزاروں پر
گلستانوں کی سیر گاہوں میں
زندگی کی حسین راہوں میں
مہتاب نہیں نکلا ستارے نہیں نکلے
دیتے جو شب غم میں سہارے نہیں نکلے
کل رات نہتا کوئی دیتا تھا صدائیں
ہم گھر سے مگر خوف کے مارے نہیں نکلے
کیا چھوڑ کے بستی کو گیا تو کہ تِرے بعد
پھر گھر سے تِرے ہجر کے مارے نہیں نکلے
پڑی رہے گی اگر غم کی دھول شاخوں پر
اداس پھول کھِلیں گے ملول شاخوں پر
ابھی نہ گلشنِ اردو کو بے چراغ کہو
کھِلے ہوئے ہیں ابھی چند پھول شاخوں پر
نکل پڑے ہیں حفاظت کو چند کانٹے بھی
ہوا ہے جب بھی گلوں کا نزول شاخوں پر
بے وفاؤں کو وفاؤں کا خدا ہم نے کہا
کیا ہمیں کہنا تھا اے دل اور کیا ہم نے کہا
لب کو غنچہ زلف کو کالی گھٹا ہم نے کہا
دل نے ہم کو جو بھی کہنے کو کہا ہم نے کہا
کس قدر مجبور ہوں گے اس گھڑی ہم اے خدا
جب تِرے بے فیض بندوں کو خدا ہم نے کہا
دامنِ صد چاک کو اک بار سی لیتا ہوں میں
تم اگر کہتے ہو تو کچھ روز جی لیتا ہوں میں
بے سبب پینا مِری عادات میں شامل نہیں
مست آنکھوں کا اشارہ ہو تو پی لیتا ہوں میں
گیسوؤں کا ہو گھنا سایہ کہ شدت دھوپ کی
وہ مجھے جس رنگ میں رکھتا ہے جی لیتا ہوں میں
کیا کیا سوال میری نظر پوچھتی رہی
لیکن وہ آنکھ تھی کہ برابر جھکی رہی
میلے میں یہ نگاہ تجھے ڈھونڈتی رہی
ہر مہ جبیں سے تیرا پتہ پوچھتی رہی
جاتے ہیں نامراد تِرے آستاں سے ہم
اے دوست پھر ملیں گے اگر زندگی رہی
کیا آج ان سے اپنی ملاقات ہو گئی؟
صحرا پہ جیسے ٹوٹ کے برسات ہو گئی
ویران بستیوں میں مِرا دن ہوا تمام
سنسان جنگلوں میں مجھے رات ہو گئی
کرتی ہے یوں بھی بات محبت کبھی کبھی
نظریں ملیں نہ ہونٹ ہلے بات ہو گئی