Showing posts with label راجندر ناتھ رہبر. Show all posts
Showing posts with label راجندر ناتھ رہبر. Show all posts

Monday, 25 April 2022

تیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں

 تیرے خوشبو میں بسے خط


پیار کی آخری پونجی بھی لٹا آیا ہوں 

اپنی ہستی کو بھی لگتا ہے مٹا آیا ہوں 

عمر بھر کی جو کمائی تھی گنوا آیا ہوں 

تیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں 

آگ بہتے ہوئے پانی میں لگا آیا ہوں 

Saturday, 13 March 2021

رات کے سرمئی اندھیروں میں

تمہاری یاد


 رات کے سُرمئی اندھیروں میں

سانس لیتے ہوئے سویروں میں

آبجو کے حسیں کناروں پر

خواب آلود رہگزاروں پر

گلستانوں کی سیر گاہوں میں

زندگی کی حسین راہوں میں

Saturday, 27 February 2021

مہتاب نہیں نکلا ستارے نہیں نکلے

 مہتاب نہیں نکلا ستارے نہیں نکلے

دیتے جو شب غم میں سہارے نہیں نکلے

کل رات نہتا کوئی دیتا تھا صدائیں

ہم گھر سے مگر خوف کے مارے نہیں نکلے

کیا چھوڑ کے بستی کو گیا تو کہ تِرے بعد

پھر گھر سے تِرے ہجر کے مارے نہیں نکلے

Wednesday, 24 February 2021

پڑی رہے گی اگر غم کی دھول شاخوں پر

 پڑی رہے گی اگر غم کی دھول شاخوں پر

اداس پھول کھِلیں گے ملول شاخوں پر

ابھی نہ گلشنِ اردو کو بے چراغ کہو

کھِلے ہوئے ہیں ابھی چند پھول شاخوں پر

نکل پڑے ہیں حفاظت کو چند کانٹے بھی

ہوا ہے جب بھی گلوں کا نزول شاخوں پر

Tuesday, 23 February 2021

بے وفاؤں کو وفاؤں کا خدا ہم نے کہا

 بے وفاؤں کو وفاؤں کا خدا ہم نے کہا

کیا ہمیں کہنا تھا اے دل اور کیا ہم نے کہا

لب کو غنچہ زلف کو کالی گھٹا ہم نے کہا

دل نے ہم کو جو بھی کہنے کو کہا ہم نے کہا

کس قدر مجبور ہوں گے اس گھڑی ہم اے خدا

جب تِرے بے فیض بندوں کو خدا ہم نے کہا

Tuesday, 9 February 2021

دامن صد چاک کو اک بار سی لیتا ہوں میں

 دامنِ صد چاک کو اک بار سی لیتا ہوں میں

تم اگر کہتے ہو تو کچھ روز جی لیتا ہوں میں

بے سبب پینا مِری عادات میں شامل نہیں

مست آنکھوں کا اشارہ ہو تو پی لیتا ہوں میں

گیسوؤں کا ہو گھنا سایہ کہ شدت دھوپ کی

وہ مجھے جس رنگ میں رکھتا ہے جی لیتا ہوں میں

Monday, 8 February 2021

کیا کیا سوال میری نظر پوچھتی رہی

 کیا کیا سوال میری نظر پوچھتی رہی

لیکن وہ آنکھ تھی کہ برابر جھکی رہی

میلے میں یہ نگاہ تجھے ڈھونڈتی رہی

ہر مہ جبیں سے تیرا پتہ پوچھتی رہی

جاتے ہیں نامراد تِرے آستاں سے ہم

اے دوست پھر ملیں گے اگر زندگی رہی

Sunday, 7 February 2021

کیا آج ان سے اپنی ملاقات ہو گئی

 کیا آج ان سے اپنی ملاقات ہو گئی؟ 

صحرا پہ جیسے ٹوٹ کے برسات ہو گئی 

ویران بستیوں میں مِرا دن ہوا تمام 

سنسان جنگلوں میں مجھے رات ہو گئی 

کرتی ہے یوں بھی بات محبت کبھی کبھی 

نظریں ملیں نہ ہونٹ ہلے بات ہو گئی