Sunday, 7 February 2021

کیا آج ان سے اپنی ملاقات ہو گئی

 کیا آج ان سے اپنی ملاقات ہو گئی؟ 

صحرا پہ جیسے ٹوٹ کے برسات ہو گئی 

ویران بستیوں میں مِرا دن ہوا تمام 

سنسان جنگلوں میں مجھے رات ہو گئی 

کرتی ہے یوں بھی بات محبت کبھی کبھی 

نظریں ملیں نہ ہونٹ ہلے بات ہو گئی 

ظالم زمانہ ہم کو اگر دے گیا شکست 

بازی محبتوں کی اگر مات ہو گئی 

ہم کو نگل سکیں یہ اندھیروں میں دم کہاں 

جب چاندنی سے اپنی ملاقات ہو گئی 

بازار جانا آج سپھل ہو گیا مِرا 

برسوں کے بعد ان سے ملاقات ہو گئی


راجندر ناتھ رہبر

No comments:

Post a Comment