Showing posts with label سعدیہ صدف. Show all posts
Showing posts with label سعدیہ صدف. Show all posts

Tuesday, 3 May 2022

اے بندگان عالم اپنا خیال رکھنا

 اپنا خیال رکھنا


اے بندگانِ عالم

اپنا خیال رکھنا

ہو رب کی مہر تم پر

ہر وقت لازمی ہے

اپنا خیال رکھنا

Monday, 2 May 2022

رہتا تھا جو پرے مِرے وہم و گمان سے

 رہتا تھا جو پرے مِرے وہم و گمان سے

بیٹھا ہے دل کے تخت پہ اب کتنی شان سے

اس نے جو التفات کی تھوڑی نگاہ کی

رہنے لگے ہیں ہم بھی ذرا خوش گمان سے

منزل کی جستجو میں تھی تنہا مسافرت

شل ہوگیا بدن مِرا ذہنی تکان سے

Sunday, 1 May 2022

تم مجھے اپنے غم کی سبھی کنجیاں سونپ دو

 آؤ بیٹھیں ذرا

ہاتھ میں چائے کا کپ لیے

بات کرتے ہوئے

ساتھ ہنستے ہوئے

تم مجھے اپنے غم کی سبھی کنجیاں سونپ دو

میں تمہیں سونپ دوں

Saturday, 30 April 2022

وہ مزہ اس کی چھوون میں ہے نہیں لطف ایسا بہار میں

 وہ مزہ اس کی چھوون میں ہے، نہیں لطف ایسا بہار میں

چلے جب صبا مِرا تن جلے، نہیں چین دل کو قرار میں

تِری مست مست نگاہ نے مجھے جام ایسا پلا دیا

مِرے ہمسفر! تجھے کیا خبر مجھے ہوش بھی ہے خمار میں

جنہیں زندگی کے تضاد بھی لگیں بوجھ بھاری پہاڑ سے

 ملی مشکلوں ہی میں مشکلیں انہیں ہر سُو راہِ فرار میں

Tuesday, 5 April 2022

ارمان آؤ بیٹھیں ذرا

 ارمان 


آؤ بیٹھیں ذرا

ہاتھ میں چائے کا کپ لیے

بات کرتے ہوئے

ساتھ ہنستے ہوئے تم مجھے 

اپنے غم کی سبھی کنجیاں سونپ دو

Sunday, 7 November 2021

ہر منظر بے جان بہت ہے

ہر منظر بے جان بہت ہے

 دل دنیا ویران بہت ہے

وہ بھی ہیں کچھ سمٹے سمٹے

مجھ میں بھی کچھ آن بہت ہے

خوب ہوئی ہے شہرت میری

عشق کا یہ احسان بہت ہے

Tuesday, 8 June 2021

بارشوں کے موسم کی ایک وہ کہانی تھی

 اف وہ بھیگتا لمحہ


بارشوں کے موسم کی

ایک وہ کہانی تھی

ساتھ میرے ہمدم تھا

اور اس کے رانی تھی

ایک دن اچانک سے

Monday, 7 June 2021

یہ کیسی عید ہے پاپا کہ جس میں آپ کے جانے کا دکھ

 یہ کیسی عید ہے پاپا

کہ جس میں آپ کے جانے کا دکھ حد سے سوا ہو کر مجھے ہر دم رُلاتا ہے

یہ کیسی عید آئی ہے

نہیں ہے آپ کے شفقت بھرے ہاتھوں کا جس میں لمس

دعائیں دینے کی خاطر جو میرے سر پہ آتے تھے

یہ کیسی عید آئی ہے

Sunday, 6 June 2021

اے بندگان عالم اپنا خیال رکھنا

 اپنا خیال رکھنا


اے بندگانِ عالم

اپنا خیال رکھنا

ہو رب کی مہر تم پر

ہر وقت لازمی ہے

اپنا خیال رکھنا

Monday, 16 November 2020

توبہ توبہ کیسی گھڑی ہے

 توبہ توبہ کیسی گھڑی ہے

سب کو اپنی اپنی پڑی ہے

ہجر کی رات آئی تو جانا

شب یہ قیامت سے بھی بڑی ہے

کون یہاں فریاد سنے گا؟

کاسہ بکف دنیا ہی کھڑی ہے

Sunday, 15 November 2020

چاند محبوب کا استعارہ ہے بس

 چاند محبوب کا استعارہ ہے بس

اس لیے اس کا صدقہ اتارا ہے بس

ہاں یہی سوچ کر دل کو یارا ہے بس

حال اب آپ ہی سا ہمارا ہے بس

سن کے سرگوشئ دل چلے آئیے

آپ کو میرے دل نے پکارا ہے بس