اپنا خیال رکھنا
اے بندگانِ عالم
اپنا خیال رکھنا
ہو رب کی مہر تم پر
ہر وقت لازمی ہے
اپنا خیال رکھنا
اپنا خیال رکھنا
اے بندگانِ عالم
اپنا خیال رکھنا
ہو رب کی مہر تم پر
ہر وقت لازمی ہے
اپنا خیال رکھنا
رہتا تھا جو پرے مِرے وہم و گمان سے
بیٹھا ہے دل کے تخت پہ اب کتنی شان سے
اس نے جو التفات کی تھوڑی نگاہ کی
رہنے لگے ہیں ہم بھی ذرا خوش گمان سے
منزل کی جستجو میں تھی تنہا مسافرت
شل ہوگیا بدن مِرا ذہنی تکان سے
آؤ بیٹھیں ذرا
ہاتھ میں چائے کا کپ لیے
بات کرتے ہوئے
ساتھ ہنستے ہوئے
تم مجھے اپنے غم کی سبھی کنجیاں سونپ دو
میں تمہیں سونپ دوں
وہ مزہ اس کی چھوون میں ہے، نہیں لطف ایسا بہار میں
چلے جب صبا مِرا تن جلے، نہیں چین دل کو قرار میں
تِری مست مست نگاہ نے مجھے جام ایسا پلا دیا
مِرے ہمسفر! تجھے کیا خبر مجھے ہوش بھی ہے خمار میں
جنہیں زندگی کے تضاد بھی لگیں بوجھ بھاری پہاڑ سے
ملی مشکلوں ہی میں مشکلیں انہیں ہر سُو راہِ فرار میں
ارمان
آؤ بیٹھیں ذرا
ہاتھ میں چائے کا کپ لیے
بات کرتے ہوئے
ساتھ ہنستے ہوئے تم مجھے
اپنے غم کی سبھی کنجیاں سونپ دو
ہر منظر بے جان بہت ہے
دل دنیا ویران بہت ہے
وہ بھی ہیں کچھ سمٹے سمٹے
مجھ میں بھی کچھ آن بہت ہے
خوب ہوئی ہے شہرت میری
عشق کا یہ احسان بہت ہے
اف وہ بھیگتا لمحہ
بارشوں کے موسم کی
ایک وہ کہانی تھی
ساتھ میرے ہمدم تھا
اور اس کے رانی تھی
ایک دن اچانک سے
یہ کیسی عید ہے پاپا
کہ جس میں آپ کے جانے کا دکھ حد سے سوا ہو کر مجھے ہر دم رُلاتا ہے
یہ کیسی عید آئی ہے
نہیں ہے آپ کے شفقت بھرے ہاتھوں کا جس میں لمس
دعائیں دینے کی خاطر جو میرے سر پہ آتے تھے
یہ کیسی عید آئی ہے
اپنا خیال رکھنا
اے بندگانِ عالم
اپنا خیال رکھنا
ہو رب کی مہر تم پر
ہر وقت لازمی ہے
اپنا خیال رکھنا
توبہ توبہ کیسی گھڑی ہے
سب کو اپنی اپنی پڑی ہے
ہجر کی رات آئی تو جانا
شب یہ قیامت سے بھی بڑی ہے
کون یہاں فریاد سنے گا؟
کاسہ بکف دنیا ہی کھڑی ہے
چاند محبوب کا استعارہ ہے بس
اس لیے اس کا صدقہ اتارا ہے بس
ہاں یہی سوچ کر دل کو یارا ہے بس
حال اب آپ ہی سا ہمارا ہے بس
سن کے سرگوشئ دل چلے آئیے
آپ کو میرے دل نے پکارا ہے بس