یہ کیسی عید ہے پاپا
کہ جس میں آپ کے جانے کا دکھ حد سے سوا ہو کر مجھے ہر دم رُلاتا ہے
یہ کیسی عید آئی ہے
نہیں ہے آپ کے شفقت بھرے ہاتھوں کا جس میں لمس
دعائیں دینے کی خاطر جو میرے سر پہ آتے تھے
یہ کیسی عید آئی ہے
کہ جس میں اب دعاؤں کی نظر آنکھوں سے اوجھل ہے
دعا دینے کی خاطر میری جانب پھر نہ اٹھے گی
مجھے اب کون خوشیوں کی دعاؤں سے نوازے گا
یہ کیسی عید ہے
جو صرف محرومی و درد و رنج کے سوغات لائی ہے
یہ کیسی عید آئی ہے
مِری ماں کی کلائی میں نہیں ہے ایک بھی چُوڑی
اور اس کے کرب کی شدت بھری آنکھوں میں آنسو کے سمندر ہی سمندر ہیں
کلیجہ منہ کو آتا ہے میں جب جب دیکھتی ہوں اس ابھاگن کو
ابھاگن اس لیے کہنا پڑا اس کو کہ دنیا آپ تھے اس کی
مگر اب بے سہارا اور تنہا رہ گئی امی
چمکتے لونگ سے لشکارے کی صورت جو خوشیوں کی بہاریں جگمگاتی تھیں
خزاں رُت کے گھنیرے دُھند میں جیسے کہ مدفن ہو گئیں ساری
یہ غم تو دائمی غم ہے
یہ غم ہر ساعتِ پُر کیف پر اب تازہ ہووے گا
تو پھر دل میرا چاہے گا
‘اگر پاپا یہاں ہوتے تو خوشیوں کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا’
یہ خالی پن جو روز افزوں ترقی پا رہا پاپا
نہ جانے کب مِرے اندر سے نکلے گا
مجھے ہر پل یہی محسوس ہوتا ہے
دھنک رنگی حسیں دلکش مِری دنیا کے سب منظر ہوئے یک لخت بے معنی
بڑی پھیکی سی لگتی ہے مجھے اس بار یہ جو عید آئی ہے
یہ کیسی عید ہے پاپا
سعدیہ صدف
No comments:
Post a Comment