تم اگر ہم سے بچھڑنے میں نہ عُجلت کرتے
ہم عبادت کی طرح تم سے محبت کرتے
میں نے پوچھا تھا فقط تم سے تغافل کا سبب
بھیگی آنکھوں سے سہی کچھ تو وضاحت کرتے
ان کو دعویٰ تھا محبت میں جنوں کاری کا
ہم سے وہ کیسے خسارے کی تجارت کرتے
دُکھ کا ہر رُوپ بہرحال ہمارا ہوتا
ہم جو تقسیم کبھی دل کی وراثت کرتے
فیصلہ اس نے کِیا ترکِ مراسم کا مگر
زندگی بِیت گئی میری وضاحت کرتے
سہیل اختر
No comments:
Post a Comment