حیات اپنی وہ معتبر ہے
ترے تصور کا نور اب بھی
نگاہِ روشن کی راہ میں ہے
رگوں میں اب کے سکون اُترا
کہ دل جو تیری پناہ میں ہے
تیری اُلفت میں کٹ گئی جو
حیات اپنی وہ معتبر ہے
حیات اپنی وہ معتبر ہے
ترے تصور کا نور اب بھی
نگاہِ روشن کی راہ میں ہے
رگوں میں اب کے سکون اُترا
کہ دل جو تیری پناہ میں ہے
تیری اُلفت میں کٹ گئی جو
حیات اپنی وہ معتبر ہے
مخملی غلاف میں
ریشمی لباس میں
سانچے ہیں جو خاک کے
یہ پربتوں میں ره چکے
گیت سبھی یہ کہہ چکے
مُٹھی بھر سکون سے
یہ غم کی مرضی
پلٹ کے یک دم
وہ دل پہ مرہم کا بوجھ ڈالے
یا پھر بھٹکنے سے اک مسافر کی
چلتی سانسوں کو توڑ ڈالے
یوں ہم شکستہ مکان کی مانند
اداسیوں کو بُھگت رہے ہیں
مخملی غلاف میں
ریشمی لباس میں
سانچے ہیں جو خاک کے
یہ پربتوں میں ره چکے
گیت سبھی یہ کہہ چکے
مٹھی بھر سکون سے
سرِ حشر بھی جو نہ ختم ہوں
یہ رگوں میں بہتی اداسیاں
جو کبھی کبھی کی ہوں راحتیں
وہ بھی رنج بن کے تمام ہوں
ابھی سلسلہ ہے نیا نیا
ابھی روشنی سی مٹھاس ہے