Showing posts with label مشعال اعجاز. Show all posts
Showing posts with label مشعال اعجاز. Show all posts

Monday, 1 April 2024

حیات اپنی وہ معتبر ہے

 حیات اپنی وہ معتبر ہے


ترے تصور کا نور اب بھی

نگاہِ روشن کی راہ میں ہے

رگوں میں اب کے سکون اُترا

کہ دل جو تیری پناہ میں ہے

تیری اُلفت میں کٹ گئی جو

حیات اپنی وہ معتبر ہے

Wednesday, 6 March 2024

آ تجھ کو میں بتاؤں کہ روح کی غذا ہے کیا

 مخملی غلاف میں

ریشمی لباس میں

سانچے ہیں جو خاک کے

یہ پربتوں میں ره چکے

گیت سبھی یہ کہہ چکے

مُٹھی بھر سکون سے

Tuesday, 19 December 2023

یہ غم کی مرضی وہ دل پہ مرہم کا بوجھ ڈالے یا

 یہ غم کی مرضی


پلٹ کے یک دم

وہ دل پہ مرہم کا بوجھ ڈالے

یا پھر بھٹکنے سے اک مسافر کی

چلتی سانسوں کو توڑ ڈالے

یوں ہم شکستہ مکان کی مانند

اداسیوں کو بُھگت رہے ہیں

Thursday, 5 January 2023

کہاں گئے وه رابطے وه ضابطے

 مخملی غلاف میں

ریشمی لباس میں

سانچے ہیں جو خاک کے

یہ پربتوں میں ره چکے

گیت سبھی یہ کہہ چکے

مٹھی بھر سکون سے

Monday, 12 December 2022

سر حشر بھی جو نہ ختم ہوں

سرِ حشر بھی جو نہ ختم ہوں

یہ رگوں میں بہتی اداسیاں

جو کبھی کبھی کی ہوں راحتیں

وہ بھی رنج بن کے تمام ہوں

ابھی سلسلہ ہے نیا نیا

ابھی روشنی سی مٹھاس ہے