Showing posts with label نور منیری. Show all posts
Showing posts with label نور منیری. Show all posts

Wednesday, 7 May 2025

کیوں شہر میں ہر سمت سے اٹھتا ہے دھواں دیکھ

 کیوں شہر میں ہر سمت سے اٹھتا ہے دھواں دیکھ

کیا حال محلے کا ہے جا اپنا مکاں دیکھ

آفاق اڑانوں کے ابھی اور بہت ہیں

اے طائر پرواز کبھی اپنا جہاں دیکھ

دیتا نہیں نفرت کا شجر دھوپ میں سایہ

بہتر ہے کوئی سایۂ دیوار اماں دیکھ

Wednesday, 30 April 2025

تم جو کہہ دیتے ہو وہ حکم خدا ہوتا ہے

 تم جو کہہ دیتے ہو وہ حُکمِ خُدا ہوتا ہے

منہ سے جو میرے نکلتا ہے گِلہ ہوتا ہے

حُسن جب بھی کبھی مائل بہ وفا ہوتا ہے

عشق آمادۂ بے داد و جفا ہوتا ہے

یہ ہے دُنیا جسے چاہے بنا دے اے دوست

فطرتاً کوئی بھلا اور نہ بُرا ہوتا ہے

Sunday, 11 July 2021

امن کا سورج تم تشدد کے روادار نہیں ہو لیکن

امن کا سورج


تم تشدّد کے روادار نہیں ہو لیکن

امن کی دل سے حمایت بھی کہاں کی تم نے

سالہا سال رقابت کے یہ وحشی جذبے

کتنے گُلشن کی زمیں کر گئے پامال مگر

خون انساں بھی ہوا آگ کے شعلے بھی اُٹھے

دُوریاں اور بڑھیں اور بڑھیں اور بڑھیں

Friday, 25 June 2021

دوش پہ اپنے بار اٹھائے پھرتے ہیں

دوش پہ اپنے بار اُٹھائے پھرتے ہیں

ہم کتنے آزار اٹھائے پھرتے ہیں

پریم نگر کے باسی کانٹوں کے بَن میں

پھُولوں کا انبار اٹھائے پھرتے ہیں

تن کے اُجلے من کے کالے ہیں جو لوگ

نفرت کی دیوار اٹھائے پھرتے ہیں