کیوں شہر میں ہر سمت سے اٹھتا ہے دھواں دیکھ
کیا حال محلے کا ہے جا اپنا مکاں دیکھ
آفاق اڑانوں کے ابھی اور بہت ہیں
اے طائر پرواز کبھی اپنا جہاں دیکھ
دیتا نہیں نفرت کا شجر دھوپ میں سایہ
بہتر ہے کوئی سایۂ دیوار اماں دیکھ
کیوں شہر میں ہر سمت سے اٹھتا ہے دھواں دیکھ
کیا حال محلے کا ہے جا اپنا مکاں دیکھ
آفاق اڑانوں کے ابھی اور بہت ہیں
اے طائر پرواز کبھی اپنا جہاں دیکھ
دیتا نہیں نفرت کا شجر دھوپ میں سایہ
بہتر ہے کوئی سایۂ دیوار اماں دیکھ
تم جو کہہ دیتے ہو وہ حُکمِ خُدا ہوتا ہے
منہ سے جو میرے نکلتا ہے گِلہ ہوتا ہے
حُسن جب بھی کبھی مائل بہ وفا ہوتا ہے
عشق آمادۂ بے داد و جفا ہوتا ہے
یہ ہے دُنیا جسے چاہے بنا دے اے دوست
فطرتاً کوئی بھلا اور نہ بُرا ہوتا ہے
امن کا سورج
تم تشدّد کے روادار نہیں ہو لیکن
امن کی دل سے حمایت بھی کہاں کی تم نے
سالہا سال رقابت کے یہ وحشی جذبے
کتنے گُلشن کی زمیں کر گئے پامال مگر
خون انساں بھی ہوا آگ کے شعلے بھی اُٹھے
دُوریاں اور بڑھیں اور بڑھیں اور بڑھیں
دوش پہ اپنے بار اُٹھائے پھرتے ہیں
ہم کتنے آزار اٹھائے پھرتے ہیں
پریم نگر کے باسی کانٹوں کے بَن میں
پھُولوں کا انبار اٹھائے پھرتے ہیں
تن کے اُجلے من کے کالے ہیں جو لوگ
نفرت کی دیوار اٹھائے پھرتے ہیں