Sunday, 11 July 2021

امن کا سورج تم تشدد کے روادار نہیں ہو لیکن

امن کا سورج


تم تشدّد کے روادار نہیں ہو لیکن

امن کی دل سے حمایت بھی کہاں کی تم نے

سالہا سال رقابت کے یہ وحشی جذبے

کتنے گُلشن کی زمیں کر گئے پامال مگر

خون انساں بھی ہوا آگ کے شعلے بھی اُٹھے

دُوریاں اور بڑھیں اور بڑھیں اور بڑھیں

مسئلہ سب کا بقاء کا ہو جہاں پیش نظر

اس کے حل کرنے کا انداز بدلنا ہو گا

پہلے ہم اپنے تئیں خود ہی وفادار بنیں

اور غیروں کو بھی دیں درس وفاداری کا

سرحدوں پہ نہ کوئی آگ کے شعلے اُگلے

تب کہیں جا کے یہ ماحول بدل سکتا ہے

امن اور چین کا سُورج بھی نکل سکتا ہے

امن اور چین کا سُورج بھی نکل سکتا ہے


نور منیری

قاضی عمر ابراہیم

No comments:

Post a Comment