حویلیوں سے بھی جنازے نکلتے ہوں گے
عروسی جوڑے کے آنچل بکھرتے ہوں گے
کُوزے میں سمندر سمانے والو سوچو
سمندر کبھی کُوزے سے سرکتے ہوں گے
کارو کاری پر جِرگہ ہو تو ہر سر پنج
امید سحر پہ تعفّن سے بکھرتے ہوں گے
حویلیوں سے بھی جنازے نکلتے ہوں گے
عروسی جوڑے کے آنچل بکھرتے ہوں گے
کُوزے میں سمندر سمانے والو سوچو
سمندر کبھی کُوزے سے سرکتے ہوں گے
کارو کاری پر جِرگہ ہو تو ہر سر پنج
امید سحر پہ تعفّن سے بکھرتے ہوں گے
نہ جانے کون سی دعائیں دینے آتی ہے
ماں خواب میں جو روز روز آتی ہے
خواب میں پا کر رخِ روشن ماں کا
اٹھ جاتا ہوں، پھر نیند نہیں آتی ہے
میری وسعتوں کا اندازہ کرو کہ ماں
مداوائے درد، اُس جہاں سے بتاتی ہے
قوم اب آتشِ پُر شرر سی بے تاب ہے
حاکمو!، تم سمجھے کہ یہ سراب ہے؟
تم ہر ہر بچے میں موسیٰ مسلتے رہے
اب وہی کلی تیرے آنگن کا گلاب ہے
گردن سے پکڑ کر اتاریں گے یہی لوگ
جسے موج سمجھے، اب وہ سیلاب ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میرے حسینؑ کو جس جس نے اذیّت دی ہے
اس نے اپنی نسل کو کُفر کی کُنیّت دی ہے
معاویہ کا کوئی قصور تو نہیں، لیکن
یزیدیت نے کُفر کو تقویّت دی ہے
شمعِ گُل استعارہ ہے یا تفریقِ دشمناں
حسینؑ نے اک خاموش برئیّت دی ہے