Showing posts with label جمیل احمد. Show all posts
Showing posts with label جمیل احمد. Show all posts

Saturday, 20 June 2026

حویلیوں سے بھی جنازے نکلتے ہوں گے

 حویلیوں سے بھی جنازے نکلتے ہوں گے

عروسی جوڑے کے آنچل بکھرتے ہوں گے

کُوزے میں سمندر سمانے والو سوچو

سمندر کبھی کُوزے سے سرکتے ہوں گے

کارو کاری پر جِرگہ ہو تو ہر سر پنج

امید سحر پہ تعفّن سے بکھرتے ہوں گے

Wednesday, 19 June 2024

نہ جانے کون سی دعائیں دینے آتی ہے

 نہ جانے کون سی دعائیں دینے آتی ہے

ماں خواب میں جو روز روز آتی ہے

خواب میں پا کر رخِ روشن ماں کا

اٹھ جاتا ہوں، پھر نیند نہیں آتی ہے

میری وسعتوں کا اندازہ کرو کہ ماں

مداوائے درد، اُس جہاں سے بتاتی ہے

Tuesday, 18 June 2024

قوم اب آتش پر شرر سی بے تاب ہے

 قوم اب آتشِ پُر شرر سی بے تاب ہے

حاکمو!، تم سمجھے کہ یہ سراب ہے؟

تم ہر ہر بچے میں موسیٰ مسلتے رہے

اب وہی کلی تیرے آنگن کا گلاب ہے

گردن سے پکڑ کر اتاریں گے یہی لوگ

جسے موج سمجھے، اب وہ سیلاب ہے

Monday, 17 June 2024

میرے حسین کو جس جس نے اذیت دی ہے

  عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


میرے حسینؑ کو جس جس نے اذیّت دی ہے

اس نے اپنی نسل کو کُفر کی کُنیّت دی ہے

معاویہ کا کوئی قصور تو نہیں، لیکن

یزیدیت نے کُفر کو تقویّت دی ہے

شمعِ گُل استعارہ ہے یا تفریقِ دشمناں

حسینؑ نے اک خاموش برئیّت دی ہے