Showing posts with label قلق میرٹھی. Show all posts
Showing posts with label قلق میرٹھی. Show all posts

Saturday, 20 November 2021

ہر عداوت کی ابتدا ہے عشق

 ہر عداوت کی ابتدا ہے عشق

کہ محبت کی انتہا ہے عشق

لو زلیخا کو کب ہوا ہے عشق

کس قدر طاقت آزما ہے عشق

فلک و مدعی و یار و اجل

سب بھلے ہیں مگر برا ہے عشق

Monday, 15 November 2021

جو دلبر کی محبت دل سے بدلے

 جو دلبر کی محبت دل سے بدلے

تو لوں امید لا حاصل سے بدلے

محال عقل کوئی شے نہیں ہے

جو آسانی مِری مشکل سے بدلے

تہی دست محبت تو بھی سمجھو

جو جمِ ساغر کو جامِ گل سے بدلے

Sunday, 14 November 2021

دوستی اس کی دشمنی ہی سہی

 دوستی اس کی دشمنی ہی سہی

دوست تو ہو وہ مدعی ہی سہی

مستی و بحث عذر کفارہ

توبہ سے توبہ ہم نے کی ہی سہی

ہے اگر کچھ وفا تو کیا کہنے

کچھ نہیں ہے تو دل لگی ہی سہی

Saturday, 30 October 2021

اے خار خار حسرت کیا کیا فگار ہیں ہم

اے خار خار حسرت کیا کیا فگار ہیں ہم

کیا حال ہو گا اس کا جس دل میں خار ہیں ہم

ہر چند دل میں تیرے ظالم غبار ہیں ہم

کتنے دبے ہوئے ہیں کیا خاکسار ہیں ہم

کیا جانے کیا دکھائے کم بخت راز دشمن

بے اختیار ہو تم اور بے قرار ہیں ہم

Saturday, 9 October 2021

ہم تو یاں مرتے ہیں واں اس کو خبر کچھ بھی نہیں

 ہم تو یاں مرتے ہیں واں اس کو خبر کچھ بھی نہیں

اے وہ سب کچھ ہی سہی عشق مگر کچھ بھی نہیں

تم کو فریادِ ستم کش کا خطر کچھ بھی نہیں

کچھ تو الفت کا اثر ہے کہ اثر کچھ بھی نہیں

عافیت ایک اور آزار ہزاروں اس میں

جس کو کچھ سود نہیں اس کو ضرر کچھ بھی نہیں