ہر عداوت کی ابتدا ہے عشق
کہ محبت کی انتہا ہے عشق
لو زلیخا کو کب ہوا ہے عشق
کس قدر طاقت آزما ہے عشق
فلک و مدعی و یار و اجل
سب بھلے ہیں مگر برا ہے عشق
ہر عداوت کی ابتدا ہے عشق
کہ محبت کی انتہا ہے عشق
لو زلیخا کو کب ہوا ہے عشق
کس قدر طاقت آزما ہے عشق
فلک و مدعی و یار و اجل
سب بھلے ہیں مگر برا ہے عشق
جو دلبر کی محبت دل سے بدلے
تو لوں امید لا حاصل سے بدلے
محال عقل کوئی شے نہیں ہے
جو آسانی مِری مشکل سے بدلے
تہی دست محبت تو بھی سمجھو
جو جمِ ساغر کو جامِ گل سے بدلے
دوستی اس کی دشمنی ہی سہی
دوست تو ہو وہ مدعی ہی سہی
مستی و بحث عذر کفارہ
توبہ سے توبہ ہم نے کی ہی سہی
ہے اگر کچھ وفا تو کیا کہنے
کچھ نہیں ہے تو دل لگی ہی سہی
اے خار خار حسرت کیا کیا فگار ہیں ہم
کیا حال ہو گا اس کا جس دل میں خار ہیں ہم
ہر چند دل میں تیرے ظالم غبار ہیں ہم
کتنے دبے ہوئے ہیں کیا خاکسار ہیں ہم
کیا جانے کیا دکھائے کم بخت راز دشمن
بے اختیار ہو تم اور بے قرار ہیں ہم
ہم تو یاں مرتے ہیں واں اس کو خبر کچھ بھی نہیں
اے وہ سب کچھ ہی سہی عشق مگر کچھ بھی نہیں
تم کو فریادِ ستم کش کا خطر کچھ بھی نہیں
کچھ تو الفت کا اثر ہے کہ اثر کچھ بھی نہیں
عافیت ایک اور آزار ہزاروں اس میں
جس کو کچھ سود نہیں اس کو ضرر کچھ بھی نہیں