Saturday, 20 November 2021

ہر عداوت کی ابتدا ہے عشق

 ہر عداوت کی ابتدا ہے عشق

کہ محبت کی انتہا ہے عشق

لو زلیخا کو کب ہوا ہے عشق

کس قدر طاقت آزما ہے عشق

فلک و مدعی و یار و اجل

سب بھلے ہیں مگر برا ہے عشق

دیکھیے اس کا ہو گا کیا انجام

اب خدا سے ہمیں ہوا ہے عشق

ہو چکا ہم سے کچھ جو ہونا تھا

تو نے یہ حال کیا کیا ہے عشق

وامق و قیس و کوہکن کیا تھے

اجل و آفت و بلا ہے عشق

دیکھنا شوق و شرم کا شیوہ

حسن خودبیں ہے خودنما ہے عشق

کون جانے تھا اس کا نام و نمود

میری بربادی سے بنا ہے عشق

دل کرو خوں تو کیا ہے دلداری

جان جاتی رہے تو کیا ہے عشق

غمزدائی میں غم فزا کیا کچھ

دلربا یا نہ جاں ربا ہے عشق

با وفا وہ ہیں بے وفا ہے حسن

بے وفا ہم ہیں با وفا ہے عشق

غمزہ سا غمزہ غم میں کرتا ہے

کچھ سے کچھ اب تو ہو گیا ہے عشق

کیسے کیسوں کی اس نے لی ہے جان

دیکھنا کیا ہی خوش ادا ہے عشق

کیوں کے ماتم نہ اب وفا کا رہے

میرے مرتے ہی مر مٹا ہے عشق

دیکھنا مرگ و زیست کے جھگڑے

جاں فزا حسن و جاں گزا ہے عشق

ویسا ہی ہے فرشتہ جیسی روح

اے قلق! تیرا آشنا ہے عشق


قلق میرٹھی

No comments:

Post a Comment