نہ جب تک فیض حاصل ہو دعا کا
اثر ہوتا نہیں کچھ بھی دوا کا
جلایا ہے دِیا اپنی وفا کا
کہ دیکھیں تو ذرا دم خم ہوا کا
یہ خاکہ ہے تِرے شہرِ جفا کا
سلگتے گھر، لہو، نعرے، دھماکا
ہمارے گھر پہ دستک کون دے گا
یہ جھونکا ہو گا آوارہ ہوا کا
یونہی دنیا بنائی تو نہ ہو گی
یقیناً ہو گا کچھ مقصد خدا کا
پڑے گا چھیننا حق غاصبوں سے
زمانہ اب نہیں ہے التجا کا
تِرا آئینہ سچ بولے گا کیسے
یہ ہے ڈھالا ہوا دورِ ریا کا
چراغاں پر چراغاں کر رہا ہوں
اندھیرا کم نہیں ہوتا فضا کا
ضرورت کب خدا جانے مَرے گی
کہ بھرتا ہی نہیں کاسہ گدا کا
مِرے یا رب! بڑا گہرا تعلق
تِری رحمت سے ہے مِری خطا کا
اٹھاتا ہاتھ ہوں اس کے لیے بھی
نہیں جو مستحق میری دعا کا
جسے آہیں سمجھ بیٹھی ہے دنیا
وہ نغمہ ہے سہیلِ بے نوا کا
سہیل فاروقی
No comments:
Post a Comment