Saturday, 20 November 2021

شہر کے مختلف علاقوں میں

 شہر کے مختلف علاقوں میں

قہر برپا ہے بم دھماکوں کا

جسم بکھرے ہوئے ہیں ٹکڑوں میں

ان کو آ کر پولیس سمیٹے گی

اور پھر جانچ کے بہانے سے

بے قصوروں کو دھر دبوچے گی

 کہیں ایسا نہ ہو پولیس والے

رکھ دیں دہشتگردوں میں مجھ کو بھی

فکر لاحق یہ ہو رہی ہے مجھے

مجھ کو ملزم اگر بنایا گیا

کون پھر لے گا خیریت میری

کون گھر بار کو چلائے گا

چھوٹے بچوں کا ساتھ ہے اپنا

زندگی کے گھنے اندھیروں میں

ان سے وابستہ ہے ہر اک سپنا

بیوی بیمار ہے کئی دن سے

کیسے پورا کروں علاج کا خرچ

یہ ہی آزار ہے کئی دن سے

اس پہ جس خوف کی کہانی سے

ذہن مفلوج ہو رہا ہے مِرا

کم نہیں مرگِ ناگہانی سے


شارق عدیل

No comments:

Post a Comment