شہر کے مختلف علاقوں میں
قہر برپا ہے بم دھماکوں کا
جسم بکھرے ہوئے ہیں ٹکڑوں میں
ان کو آ کر پولیس سمیٹے گی
اور پھر جانچ کے بہانے سے
بے قصوروں کو دھر دبوچے گی
کہیں ایسا نہ ہو پولیس والے
رکھ دیں دہشتگردوں میں مجھ کو بھی
فکر لاحق یہ ہو رہی ہے مجھے
مجھ کو ملزم اگر بنایا گیا
کون پھر لے گا خیریت میری
کون گھر بار کو چلائے گا
چھوٹے بچوں کا ساتھ ہے اپنا
زندگی کے گھنے اندھیروں میں
ان سے وابستہ ہے ہر اک سپنا
بیوی بیمار ہے کئی دن سے
کیسے پورا کروں علاج کا خرچ
یہ ہی آزار ہے کئی دن سے
اس پہ جس خوف کی کہانی سے
ذہن مفلوج ہو رہا ہے مِرا
کم نہیں مرگِ ناگہانی سے
شارق عدیل
No comments:
Post a Comment