اس نے مانگا جو دل دئیے ہی بنی
جو نہ کرنا تھا وہ کیۓ ہی بنی
اس ادا سے دل اس نے پھیرا آج
کہ مجھے دوڑ کر لیے ہی بنی
تیرے ہمراہ غیر کیوں آیا
جس کی خاطر مجھے کیۓ ہی بنی
اس نے مانگا جو دل دئیے ہی بنی
جو نہ کرنا تھا وہ کیۓ ہی بنی
اس ادا سے دل اس نے پھیرا آج
کہ مجھے دوڑ کر لیے ہی بنی
تیرے ہمراہ غیر کیوں آیا
جس کی خاطر مجھے کیۓ ہی بنی
دیکھ لو اک نظر میں کچھ بھی نہیں
سچ کہا ہے بشر میں کچھ بھی نہیں
شیخ کچھ اپنے آپ کو سمجھیں
میکشوں کی نظر میں کچھ بھی نہیں
کچھ نہ ہونے پہ ہو تمہیں سب کچھ
تم نہیں ہو تو گھر میں کچھ بھی نہیں
ظرف تو دیکھیۓ میرے دل شیدائی کا
جامِ مے بن گیا اک مست خود آرائی کا
جی میں آتا ہے کہ پھولوں کی اڑا دوں خوشبو
رنگ اڑا لائے ہیں ظالم تِری رعنائی کا
میں ابھی ان کو شناسائے محبت کر دوں
کاش موقع تو ملے ان سے شناسائی کا
گریباں چاک مجنوں بن سے نکلا
میں لے کر دھجیاں دامن سے نکلا
کہیں جلوہ بھی پردے میں رہا ہے
وہ دیکھو نور اک چلمن سے نکلا
جنوں نے راہ یہ اچھی نکالی
گریباں پہاڑ کر دامن سے نکلا
تڑپ کے لوٹ کے آنسو بہا کے دیکھ لیا
لگی نہ دل کی تجھے دل لگا کے دیکھ لیا
کسی نے داد نہ دی کچھ فسانۂ دل کی
انہیں بھی دردِ محبت سنا کے دیکھ لیا
کسے اُمید تھی آؤ گے تم دم آخر
بڑا کمال کیا تم نے آ کے دیکھ لیا