اس نے مانگا جو دل دئیے ہی بنی
جو نہ کرنا تھا وہ کیۓ ہی بنی
اس ادا سے دل اس نے پھیرا آج
کہ مجھے دوڑ کر لیے ہی بنی
تیرے ہمراہ غیر کیوں آیا
جس کی خاطر مجھے کیۓ ہی بنی
دیکھا انجام عشق کا اے دل
جان آخر ہمیں دئیے ہی بنی
دستِ نازک سے اس نے جام دیا
آج مجھ کو شرف پیۓ ہی بنی
شرف مجددی
No comments:
Post a Comment