دیکھ افق کے پیلے پن میں دور وہ منظر ڈوب گیا
جیسے کسی بیمار کے رخ پر رنگ ابھر کر ڈوب گیا
جھوٹی آس کے پنکھ لگا کر سات سمندر اڑ آیا
تیرے قرب کی خوشبو پا کر میں ساحل پر ڈوب گیا
یاد کی اے سیلی دیوارو! اب کے ایسا لگتا ہے
حال کی طغیانی میں جیسے ماضی کا گھر ڈوب گیا