Showing posts with label رونق رضا. Show all posts
Showing posts with label رونق رضا. Show all posts

Thursday, 7 April 2022

دیکھ افق کے پیلے پن میں دور وہ منظر ڈوب گیا

 دیکھ افق کے پیلے پن میں دور وہ منظر ڈوب گیا

جیسے کسی بیمار کے رخ پر رنگ ابھر کر ڈوب گیا

جھوٹی آس کے پنکھ لگا کر سات سمندر اڑ آیا

تیرے قرب کی خوشبو پا کر میں ساحل پر ڈوب گیا

یاد کی اے سیلی دیوارو! اب کے ایسا لگتا ہے

حال کی طغیانی میں جیسے ماضی کا گھر ڈوب گیا

Friday, 19 November 2021

عمر بھر پیش نظر ماہ تمام آتے رہے

 عمر بھر پیشِ نظر ماہِ تمام آتے رہے

چند چہرے آئینہ خانے کے کام آتے رہے

چند قطرے بھی نہ ٹپکے خواہشوں کی ریت پر

کیسے کیسے ابر تھے بالائے بام آتے رہے

میرے ماضی کے افق پر چند جگنو تھے کہ جو

حال کی تیرہ شبی میں میرے کام آتے رہے

Monday, 15 November 2021

شام غم کی ہے عطا صبح مسرت دی ہے

 شامِ غم کی ہے عطا صبحِ مسرت دی ہے

زندگی نے ہمیں احساس کی دولت دی ہے

کیسے کیسے تِرے احساس کی چٹانوں کو

میں نے لفظوں میں تراشا ہے تو صورت دی ہے

میری مُٹھی میں ہے ہر خواب کی تعبیر، مگر

تُو نے اے وحشتِ دل کب مجھے مہلت دی ہے

Sunday, 14 November 2021

ہمارے خواب ہماری پسند ہوتے گئے

 ہمارے خواب ہماری پسند ہوتے گئے

ہم اپنے آئینہ خانوں میں بند ہوتے گئے

یہ کیا ہوا کہ بہ ایں جسم اس سے ملتے رہے

مگر فراق کے صدمے دو چند ہوتے گئے

ہر ایک فتح پہ مغرور ہو رہا تھا وہ

ہر اک شکست پہ ہم خود پسند ہوتے گئے

Thursday, 30 September 2021

بھولی بسری خواہشوں کا بوجھ آنکھوں پر نہ رکھ

بُھولی بِسری خواہشوں کا بوجھ آنکھوں پر نہ رکھ

خوبصورت آئینوں میں غم کا پس منظر نہ رکھ

دیکھ بڑھ کر شوخیاں موجوں کی اور قسمت کا کھیل

کشتیاں دریا کے سنجیدہ کناروں پر نہ رکھ

یا تو اُڑ جا ساتھ لے کر قید کی مجبوریاں

ورنہ اپنی جرأتوں کا نام بال و پر نہ رکھ

Thursday, 3 June 2021

ہماری جیت یہی تھی کہ خود سے ہار آئے

 ہماری جیت یہی تھی کہ خود سے ہار آئے

کسی کے ہم پہ کئی قرض تھے اتار آئے

تمہاری یاد بھی ہے بازگشت کی آواز

جو ایک بار پکارو تو بار بار آئے

ہر ایک موڑ پہ جیسے وہ مڑ کے دیکھتا ہو

نظر کچھ ایسے مناظر پسِ غبار آئے