Thursday, 3 June 2021

ہماری جیت یہی تھی کہ خود سے ہار آئے

 ہماری جیت یہی تھی کہ خود سے ہار آئے

کسی کے ہم پہ کئی قرض تھے اتار آئے

تمہاری یاد بھی ہے بازگشت کی آواز

جو ایک بار پکارو تو بار بار آئے

ہر ایک موڑ پہ جیسے وہ مڑ کے دیکھتا ہو

نظر کچھ ایسے مناظر پسِ غبار آئے

نجانے کون سے لمحوں کی لغزشوں کے سبب

ہماری راہ میں صدیوں کے کوہسار آئے

کمال کر دیا ہم نے کہ آرزو کے بغیر

کسی طرح سے جئے زندگی گزار آئے


رونق رضا

No comments:

Post a Comment