Showing posts with label حباب ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label حباب ہاشمی. Show all posts

Wednesday, 17 November 2021

خود پہ وہ فخر کناں کیسا ہے

 خود پہ وہ فخر کناں کیسا ہے

اس کو اپنے پہ گماں کیسا ہے

کوئی جنبش ہے نہ آہٹ نہ صدا

یہ جہانِ گزراں کیسا ہے

دل دھڑکنے کی بھی آواز نہیں

سانحۂ کاہش جاں کیسا ہے

Wednesday, 3 November 2021

اب تلک تند ہواؤں کا اثر باقی ہے

 اب تلک تند ہواؤں کا اثر باقی ہے

اک چراغ اور سرِ راہگزر باقی ہے

وہ ہماری نہیں سنتا تو گِلہ ہے کیسا

اب کہاں اپنی دعاؤں میں اثر باقی ہے

دل میں باقی ہیں فقط چند لہو کے قطرے

اب مِرے پاس یہی زادِ سفر باقی ہے

Sunday, 31 October 2021

امید و بیم کے عالم میں دل دہلتا ہے

 امید و بیم کے عالم میں دل دہلتا ہے

وہ آتے آتے کئی راستے بدلتا ہے

ابھی تو شام ہے تنقید کر نہ رِندوں پر

سنا ہے رات گئے مے کدہ سنبھلتا ہے

نہ کوئی خوف نہ اندیشہ اور نہ رختِ سفر

یہ کون ہے جو مِرے ساتھ ساتھ چلتا ہے

Wednesday, 25 November 2020

اب مصر میں کہاں کوئی بازار معتبر

 اب مصر میں کہاں کوئی بازار معتبر

یوسف ہی معتبر، نہ خریدار معتبر

ایسے میں سوچتا ہوں کسے معتبر کہوں

ملتا نہیں ہے جب کوئی کردار معتبر

رہزن چھپے ہوئے ہیں پسِ سنگِ میل راہ

مطلق نہیں ہے سایۂ اشجار معتبر

Tuesday, 24 November 2020

سوز و گداز و جذب و اثر کون لے گیا

 سوز و گداز و جذب و اثر کون لے گیا

ہم سے متاعِ درد جگر کون لے گیا

کیا ہو گیا ہے گردشِ دوراں تُو ہی بتا

حسن و جمال شام و سحر کون لے گیا

شوریدگیٔ عشق کی لذت کہاں گئی؟

سودا تھا جس میں تیرا وہ سر کون لے گیا