خود پہ وہ فخر کناں کیسا ہے
اس کو اپنے پہ گماں کیسا ہے
کوئی جنبش ہے نہ آہٹ نہ صدا
یہ جہانِ گزراں کیسا ہے
دل دھڑکنے کی بھی آواز نہیں
سانحۂ کاہش جاں کیسا ہے
خود پہ وہ فخر کناں کیسا ہے
اس کو اپنے پہ گماں کیسا ہے
کوئی جنبش ہے نہ آہٹ نہ صدا
یہ جہانِ گزراں کیسا ہے
دل دھڑکنے کی بھی آواز نہیں
سانحۂ کاہش جاں کیسا ہے
اب تلک تند ہواؤں کا اثر باقی ہے
اک چراغ اور سرِ راہگزر باقی ہے
وہ ہماری نہیں سنتا تو گِلہ ہے کیسا
اب کہاں اپنی دعاؤں میں اثر باقی ہے
دل میں باقی ہیں فقط چند لہو کے قطرے
اب مِرے پاس یہی زادِ سفر باقی ہے
امید و بیم کے عالم میں دل دہلتا ہے
وہ آتے آتے کئی راستے بدلتا ہے
ابھی تو شام ہے تنقید کر نہ رِندوں پر
سنا ہے رات گئے مے کدہ سنبھلتا ہے
نہ کوئی خوف نہ اندیشہ اور نہ رختِ سفر
یہ کون ہے جو مِرے ساتھ ساتھ چلتا ہے
اب مصر میں کہاں کوئی بازار معتبر
یوسف ہی معتبر، نہ خریدار معتبر
ایسے میں سوچتا ہوں کسے معتبر کہوں
ملتا نہیں ہے جب کوئی کردار معتبر
رہزن چھپے ہوئے ہیں پسِ سنگِ میل راہ
مطلق نہیں ہے سایۂ اشجار معتبر
سوز و گداز و جذب و اثر کون لے گیا
ہم سے متاعِ درد جگر کون لے گیا
کیا ہو گیا ہے گردشِ دوراں تُو ہی بتا
حسن و جمال شام و سحر کون لے گیا
شوریدگیٔ عشق کی لذت کہاں گئی؟
سودا تھا جس میں تیرا وہ سر کون لے گیا