Showing posts with label حسنین اقبال. Show all posts
Showing posts with label حسنین اقبال. Show all posts

Friday, 27 October 2023

شب میں پر نور مناظر تو بڑے دیکھتے ہیں

 شب میں پُر نُور مناظر تو بڑے دیکھتے ہیں

چاند کے بیچ تِرے نقش بنے دیکھتے ہیں

نہیں دِکھتا ہے مجھے تُو، تو کوئی بات نہیں

میں انہیں دیکھ کے خوش ہوں جو تجھے دیکھتے ہیں

ساری دُنیا بھی پھریں، واپسی یہیں ہو گی

جو تجھے دیکھ چکے ہوں وہ کِسے دیکھتے ہیں

Sunday, 22 August 2021

مرے خیال میں ایک عارضی سہارا تھا

 مِرے خیال میں ایک عارضی سہارا تھا

مگر وہ شخص مِرا دائمی سہارا تھا 

میں اک حسیں کی بدولت ہُوا اُجالا شناس

وگرنہ، پہلے مِرا تیرگی سہارا تھا 

تجھے میں کتنی دلیلیں دوں اپنی چاہت کی

یقین کر تُو مِرا واقعی سہارا تھا

Friday, 13 August 2021

بہت دنوں سے ملاقات ہے نہ بات کبھی

 بہت دنوں سے ملاقات ہے نہ بات کبھی

کہاں گئے ہیں وہ سب لوگ جو تھے ساتھ کبھی

غمِ حیات! دیکھ، ایک سے ہیں میں اور تُو

چُھڑا نہ لینا کہیں مجھ سے اپنا ہاتھ کبھی

پھر اس کے بعد کوئی ہم سے جیت ہی نہ سکا

تمہارے در پہ ہاری تھی جو کائنات کبھی

Tuesday, 10 August 2021

حسین، ماہ جبیں، تابناک آئی ہے

 حسین، ماہ جبیں، تابناک آئی ہے

سنا ہے شہر میں کوئی چلاک آئی ہے

سبھی کے درمیاں آتی ہے مختصر دوری

ہمارے بیچ مگر ٹھیک ٹھاک آئی ہے

ابھی تو سابقہ دُکھ تھا، کہ یہ نگاہِ جواں

اک اور شوخ بدن پھر سے تاک آئی ہے

Sunday, 28 February 2021

تم نے بال پھیلائے تھے

 تم نے بال پھیلائے تھے

یا پھر شام کے سائے تھے

گزرے دن کی باتیں ہیں

ہم بھی آپ کو بھائے تھے

اکثر ان کی آنکھوں سے

ہم نے دھوکے کھائے تھے

Wednesday, 16 December 2020

رات دن مجھ کو ستایا یار نے

 رات دن مجھ کو ستایا یار نے 

خود کو غیروں میں بسایا یار نے

کیا بتاؤں دل کی حالت آج میں

بزم میں مجھ کو بلایا یار نے

میں نہیں پاگل مگر پاگل کہو 

مجھ کو تو پاگل بنایا یار نے