شب میں پُر نُور مناظر تو بڑے دیکھتے ہیں
چاند کے بیچ تِرے نقش بنے دیکھتے ہیں
نہیں دِکھتا ہے مجھے تُو، تو کوئی بات نہیں
میں انہیں دیکھ کے خوش ہوں جو تجھے دیکھتے ہیں
ساری دُنیا بھی پھریں، واپسی یہیں ہو گی
جو تجھے دیکھ چکے ہوں وہ کِسے دیکھتے ہیں
شب میں پُر نُور مناظر تو بڑے دیکھتے ہیں
چاند کے بیچ تِرے نقش بنے دیکھتے ہیں
نہیں دِکھتا ہے مجھے تُو، تو کوئی بات نہیں
میں انہیں دیکھ کے خوش ہوں جو تجھے دیکھتے ہیں
ساری دُنیا بھی پھریں، واپسی یہیں ہو گی
جو تجھے دیکھ چکے ہوں وہ کِسے دیکھتے ہیں
مِرے خیال میں ایک عارضی سہارا تھا
مگر وہ شخص مِرا دائمی سہارا تھا
میں اک حسیں کی بدولت ہُوا اُجالا شناس
وگرنہ، پہلے مِرا تیرگی سہارا تھا
تجھے میں کتنی دلیلیں دوں اپنی چاہت کی
یقین کر تُو مِرا واقعی سہارا تھا
بہت دنوں سے ملاقات ہے نہ بات کبھی
کہاں گئے ہیں وہ سب لوگ جو تھے ساتھ کبھی
غمِ حیات! دیکھ، ایک سے ہیں میں اور تُو
چُھڑا نہ لینا کہیں مجھ سے اپنا ہاتھ کبھی
پھر اس کے بعد کوئی ہم سے جیت ہی نہ سکا
تمہارے در پہ ہاری تھی جو کائنات کبھی
حسین، ماہ جبیں، تابناک آئی ہے
سنا ہے شہر میں کوئی چلاک آئی ہے
سبھی کے درمیاں آتی ہے مختصر دوری
ہمارے بیچ مگر ٹھیک ٹھاک آئی ہے
ابھی تو سابقہ دُکھ تھا، کہ یہ نگاہِ جواں
اک اور شوخ بدن پھر سے تاک آئی ہے
تم نے بال پھیلائے تھے
یا پھر شام کے سائے تھے
گزرے دن کی باتیں ہیں
ہم بھی آپ کو بھائے تھے
اکثر ان کی آنکھوں سے
ہم نے دھوکے کھائے تھے
رات دن مجھ کو ستایا یار نے
خود کو غیروں میں بسایا یار نے
کیا بتاؤں دل کی حالت آج میں
بزم میں مجھ کو بلایا یار نے
میں نہیں پاگل مگر پاگل کہو
مجھ کو تو پاگل بنایا یار نے