Friday, 13 August 2021

بہت دنوں سے ملاقات ہے نہ بات کبھی

 بہت دنوں سے ملاقات ہے نہ بات کبھی

کہاں گئے ہیں وہ سب لوگ جو تھے ساتھ کبھی

غمِ حیات! دیکھ، ایک سے ہیں میں اور تُو

چُھڑا نہ لینا کہیں مجھ سے اپنا ہاتھ کبھی

پھر اس کے بعد کوئی ہم سے جیت ہی نہ سکا

تمہارے در پہ ہاری تھی جو کائنات کبھی

سُنا ہے راہِ محبت میں مار دیتی ہے

نشاط و غم سے اُلجھتی ہوئی حیات کبھی

ہم ایک ساتھ رہے مُدتوں مگر پھر بھی

لبوں پہ آ نہ سکی دل کی کوئی بات کبھی

غمِ زمانہ میں خود کو تباہ کر ڈالا

غمِ زمانہ نے پھر بھی دیا نہ ساتھ کبھی

سُنا ہے شہرِ نگاراں میں لُوٹ لیتے ہیں

کہیں پہ دن یہ اور کبھی کہیں پہ رات کبھی

ہمیشہ دُکھ رہا ہم کو حسنین بس اتنا

کسی کے کام نہ آئی ہماری ذات کبھی


حسنین اقبال

No comments:

Post a Comment