شہرِ دل کنجِ بیابان نہیں تھا پہلے
میں کبھی اتنا پریشان نہیں تھا پہلے
بائیں پہلو میں جو اک سنگ پڑا ہے ساکت
یہ دھڑکتا بھی تھا، بے جان نہیں تھا پہلے
شہریاروں سے مراسم تھے بہت ہی گہرے
تیرہ بختوں سے بھی انجان نہیں تھا پہلے
لفظ رُوٹھے ہوئے رہتے تھے قلم سے اکثر
جن سے تجدید کا امکان نہیں تھا پہلے
جب سفر کاٹ لیا ہے تو ملا ہے سب کچھ
ساتھ میرے کوئی سامان نہیں تھا پہلے
آج چادر کے برابر ہے مِرے قد کی بساط
میں کسی شہر کا سلطان نہیں تھا پہلے
کھائے بیٹھا ہے زمانے سے تعلق کا فریب
تُو علی! اتنا تو نادان نہیں تھا پہلے
علی مزمل
No comments:
Post a Comment