عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قبولیت کا یہی طریقہ نکالنا ہے
مجھے مدینے کی سمت رستا نکالنا ہے
درود پڑھ کر تمام کرنا ہے تیرگی کو
درونِ دشتِ غبار، دریا نکالنا ہے
بسا کے رکھنا ہے دل میں ان کی محبتوں کو
سوائے عشقِ رسولﷺ جو تھا، نکالنا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قبولیت کا یہی طریقہ نکالنا ہے
مجھے مدینے کی سمت رستا نکالنا ہے
درود پڑھ کر تمام کرنا ہے تیرگی کو
درونِ دشتِ غبار، دریا نکالنا ہے
بسا کے رکھنا ہے دل میں ان کی محبتوں کو
سوائے عشقِ رسولﷺ جو تھا، نکالنا ہے
ان کہی
کیا بتائیں تمہیں
کتنی صدیاں مہاجر پرندوں کی مانند
اک شاخ سے دوسری شاخ پر آتے جاتے کٹیں
کتنی آہیں امیدوں کے افلاک پر جھلملاتے کٹیں
کتنے آنسو سرِ لوحِ مژگاں اتارے گئے
دُکھ سنوارے گئے
سکوت
گہنا دیا کسی کی خموشی نے من کا پھول
لہجہ کوئی یقین کی لو کو مسل گیا
ٹوٹا ہمارا ضبط کسی کے سکوت سے
انداز کوئی دل کی رگوں کو کچل گیا
ہم ہی نہیں جناب! زمانہ اداس ہے
خدائے امن و آشتی
نئی رُتوں میں میری بستیوں پہ بھیج روشنی کے پارچے
جو محوِ اضطراب ہے وہ اب سکوں کا سانس لے
یہ بھوک پیاس ختم کر، اتار سُکھ کے ذائقے
انڈیل خوشگواریاں، اجال رنگ ملگجے
جو سرخ چہرے غم کی لو سے بجھ گئے
زندگی ہے کہ
تھک کر کہیں
دو گھڑی تک کو بھی سانس لیتی نہیں
ایک مصروف کو کیا خبر
فرصتوں کی تمنا کا کیا بھاؤ ہے
کتنا اُلجھاؤ ہے
ملگجا
آپ روٹھے تو رنگوں کی دہلیز پر
ہو گیا ہے اضافہ نئے رنگ کا
ملگجے رنگ کا
عبدالرحمان واصف
اب لُٹ چکی ہیں میرے شبستاں کی رونقیں
سُونا ہے اعتبار کا رستا، اداس ہوں
اک یاد ہڈیوں کو جلاتی ہے رات دن
اک شخص کیا گیا کہ سراپا اداس ہوں
وہ چاند میری چھت سے پرے جاگزیں ہوا
جب اس نے مجھ کو جھانک کے دیکھا، اداس ہوں
ایک حسرت ہے، اندھیرا ہے، فغاں ہے، میں ہوں
رات اجڑے ہوئے کمرے میں رواں ہے، میں ہوں
ان خد و خال پہ اتری ہوئی وحشت کو سمجھ
آئینے! تجھ میں کوئی اور کہاں ہے، میں ہوں
ماند ہوتے ہوئے سایوں کے جلو میں لرزاں
یہ جو اک شخص مِرے ہمسفراں ہے میں ہوں
ہوک
ہمیں شہروں کی رونق میں
الجھ کر بھولنے والو
تمہیں کچھ علم ہے
جب راستوں پر شام پڑتی ہے
ہمارے دل جکڑتی ہے
عبدالرحمان واصف
قطرہ قطرہ کرب
پھیلی روش روش پہ
عذابات کی پکار
بے ربط ہیں یقین کے موسم کی دھڑکنیں
اجڑی ہوئی تمام ستاروں کی روشنی
پتوں کے چیتھڑوں پہ لکھا
ویرانی
اسے کہنا تمہارے بعد دل کی شاہراہوں پر
فقط اندیشۂ صبر و رضا کی دُھول اُڑتی ہے
بلا کی دُھول اُڑتی ہے
عبدالرحمان واصف
کھنڈر
مِرے چہرے پہ مت کھوجو ہجومِ رنگ و رعنائی
جنہیں اپنوں نے چھوڑا ہو، وہ در ویران ہوتے ہیں
کھنڈر ویران ہوتے ہیں
عبدالرحمان واصف
ملگجا
آپ روٹھے تو رنگوں کی دہلیز پر
ہو گیا ہے اضافہ نئے رنگ کا
ملگجے رنگ کا
عبدالرحمان واصف
الجھاؤ
زندگی ہے کہ تھک کر کہیں
دو گھڑی تک کو بھی سانس لیتی نہیں
ایک مصروف کو کیا خبر
فرصتوں کی تمنا کا کیا بھاؤ ہے
کتنا الجھاؤ ہے
ہائے ہجرت کی روایات کے مارے ہوئے دن
آپ کے بعد کبھی پھر نہ ہمارے ہوئے دن
دل کی زنبیل میں یادوں کا دھواں رہتا ہے
اور کچھ خطہ غفلت میں اتارے ہوئے دن
اونگھتے ہیں مِرے دروازے کی چوکھٹ سے لگے
ایک امیدِ سبک دست سے ہارے ہوئے دن
پری لڑکی
اری لڑکی، اری بھاگوں بھری لڑکی
پری لڑکی
تمناؤں کی فصلیں مت اُگا دل پر
یہ فصلیں خواب زادوں کا لہو تک چوس لیتی ہیں
پری لڑکی، یہ دنیا ہے
درد کی نقدی لٹا افکار پھونک
دوستا جلتی چتا پر مار پھونک
پھونک دے آنکھوں میں پلتے خوابیے
خواہشِ دیدارِ کوئے یار پھونک
اہتمامِ شب گری پر خاک ڈال
رمزیاتِ دیدۂ بیدار پھونک
ہجرت
(مختصر نظم)
ہم، پنچھی، پُلیا، پگڈنڈی خاموش ہوئے
وہ ساتھ لیے جب ہجرت کا اسلوب چلا
دل ڈوب چلا
عبدالرحمان واصف
دل میں رکھے ہوئے خوابوں کا گھروندا دکھ ہے
سرتاپا دکھ مِری آنکھیں، تِرا چہرہ دکھ ہے
مجھ سے مت ہاتھ ملا، اور نہ دم بھر میرا
تجھ کو معلوم نہیں، اس کا نتیجہ دکھ ہے
دکھ ہی دکھ پھیلے ہوئے ہیں مِرے چاروں جانب
میں تمنائے وفا ہوں، مِرا نغمہ دکھ ہے
دھجیاں
(مختصر نظم)
ہمارے خواب سارے دھجیوں میں بٹ چکے ہیں
تمناؤ دلِ کم بخت کا دالان چھوڑو
ہماری جان چھوڑو
عبدالرحمان واصف