Showing posts with label عبدالرحمان واصف. Show all posts
Showing posts with label عبدالرحمان واصف. Show all posts

Tuesday, 28 May 2024

قبولیت کا یہی طریقہ نکالنا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


قبولیت کا یہی طریقہ نکالنا ہے

مجھے مدینے کی سمت رستا نکالنا ہے

درود پڑھ کر تمام کرنا ہے تیرگی کو

درونِ دشتِ غبار، دریا نکالنا ہے

بسا کے رکھنا ہے دل میں ان کی محبتوں کو

سوائے عشقِ رسولﷺ جو تھا، نکالنا ہے

Monday, 30 October 2023

ہائے سینے میں لکھی ہوئی داستاں ان کہی ہو گئی

 ان کہی


کیا بتائیں تمہیں

کتنی صدیاں مہاجر پرندوں کی مانند

اک شاخ سے دوسری شاخ پر آتے جاتے کٹیں

کتنی آہیں امیدوں کے افلاک پر جھلملاتے کٹیں

کتنے آنسو سرِ لوحِ مژگاں اتارے گئے

دُکھ سنوارے گئے

Friday, 10 March 2023

گہنا دیا کسی کی خموشی نے من کا پھول

 سکوت


گہنا دیا کسی کی خموشی نے من کا پھول

لہجہ کوئی یقین کی لو کو مسل گیا

ٹوٹا ہمارا ضبط کسی کے سکوت سے

انداز کوئی دل کی رگوں کو کچل گیا

ہم ہی نہیں جناب! زمانہ اداس ہے

Thursday, 23 February 2023

خدائے امن و آشتی نئی رتوں کی گود میں امنگ ہو

 خدائے امن و آشتی

نئی رُتوں میں میری بستیوں پہ بھیج روشنی کے پارچے 

جو محوِ اضطراب ہے وہ اب سکوں کا سانس لے

یہ بھوک پیاس ختم کر، اتار سُکھ کے ذائقے 

انڈیل خوشگواریاں، اجال رنگ ملگجے

جو سرخ چہرے غم کی لو سے بجھ گئے 

Sunday, 16 October 2022

کتنا الجھاؤ ہے

 زندگی ہے کہ

تھک کر کہیں 

دو گھڑی تک کو بھی سانس لیتی نہیں

ایک مصروف کو کیا خبر

فرصتوں کی تمنا کا کیا بھاؤ ہے

کتنا اُلجھاؤ ہے

Saturday, 23 July 2022

ہو گیا ہے اضافہ نئے رنگ کا

 ملگجا


آپ روٹھے تو رنگوں کی دہلیز پر

ہو گیا ہے اضافہ نئے رنگ کا

ملگجے رنگ کا


عبدالرحمان واصف

Thursday, 7 July 2022

اب لٹ چکی ہیں میرے شبستاں کی رونقیں

 اب لُٹ چکی ہیں میرے شبستاں کی رونقیں

سُونا ہے اعتبار کا رستا، اداس ہوں

اک یاد ہڈیوں کو جلاتی ہے رات دن

اک شخص کیا گیا کہ سراپا اداس ہوں

وہ چاند میری چھت سے پرے جاگزیں ہوا

جب اس نے مجھ کو جھانک کے دیکھا، اداس ہوں

Sunday, 12 June 2022

ایک حسرت ہے اندھیرا ہے فغاں ہے میں ہوں

 ایک حسرت ہے، اندھیرا ہے، فغاں ہے، میں ہوں

رات اجڑے ہوئے کمرے میں رواں ہے، میں ہوں

ان خد و خال پہ اتری ہوئی وحشت کو سمجھ

آئینے! تجھ میں کوئی اور کہاں ہے، میں ہوں

ماند ہوتے ہوئے سایوں کے جلو میں لرزاں

یہ جو اک شخص مِرے ہمسفراں ہے میں ہوں

Friday, 15 April 2022

ہوک ہمارے دل جکڑتی ہے

 ہوک

ہمیں شہروں کی رونق میں 

الجھ کر بھولنے والو

تمہیں کچھ علم ہے

جب راستوں پر شام پڑتی ہے 

ہمارے دل جکڑتی ہے


عبدالرحمان واصف

Friday, 18 March 2022

شاید خزاں بھی میری تمنا کی شکل ہے

 قطرہ قطرہ کرب

پھیلی روش روش پہ 

عذابات کی پکار

بے ربط ہیں یقین کے موسم کی دھڑکنیں

اجڑی ہوئی تمام ستاروں کی روشنی

پتوں کے چیتھڑوں پہ لکھا 

Tuesday, 29 June 2021

ویرانی اسے کہنا تمہارے بعد دل کی شاہراہوں پر

 ویرانی


اسے کہنا تمہارے بعد دل کی شاہراہوں پر

فقط اندیشۂ صبر و رضا کی دُھول اُڑتی ہے

بلا کی دُھول اُڑتی ہے


عبدالرحمان واصف

Monday, 28 June 2021

کھنڈر ویران ہوتے ہیں

 کھنڈر


مِرے چہرے پہ مت کھوجو ہجومِ رنگ و رعنائی

جنہیں اپنوں نے چھوڑا ہو، وہ در ویران ہوتے ہیں

کھنڈر ویران ہوتے ہیں


عبدالرحمان واصف

Saturday, 19 June 2021

آپ روٹھے تو رنگوں کی دہلیز پر

 ملگجا


آپ روٹھے تو رنگوں کی دہلیز پر

ہو گیا ہے اضافہ نئے رنگ کا

ملگجے رنگ کا 


عبدالرحمان واصف

Saturday, 12 June 2021

الجھاؤ زندگی ہے کہ تھک کر کہیں

 الجھاؤ


زندگی ہے کہ تھک کر کہیں 

دو گھڑی تک کو بھی سانس لیتی نہیں

ایک مصروف کو کیا خبر 

فرصتوں کی تمنا کا کیا بھاؤ ہے

کتنا الجھاؤ ہے

Thursday, 29 April 2021

ہائے ہجرت کی روایات کے مارے ہوئے دن

 ہائے ہجرت کی روایات کے مارے ہوئے دن

آپ کے بعد کبھی پھر نہ ہمارے ہوئے دن

دل کی زنبیل میں یادوں کا دھواں رہتا ہے

اور کچھ خطہ غفلت میں اتارے ہوئے دن

اونگھتے ہیں مِرے دروازے کی چوکھٹ سے لگے

ایک امیدِ سبک دست سے ہارے ہوئے دن

Thursday, 29 October 2020

اری لڑکی اری بھاگوں بھری لڑکی پری لڑکی

پری لڑکی


اری لڑکی، اری بھاگوں بھری لڑکی

پری لڑکی

تمناؤں کی فصلیں مت اُگا دل پر

یہ فصلیں خواب زادوں کا لہو تک چوس لیتی ہیں

پری لڑکی، یہ دنیا ہے

Thursday, 15 October 2020

دوستا جلتی چتا پر مار پھونک

 درد کی نقدی لٹا افکار پھونک

دوستا جلتی چتا پر مار پھونک

پھونک دے آنکھوں میں پلتے خوابیے

خواہشِ دیدارِ کوئے یار پھونک

اہتمامِ شب گری پر خاک ڈال

رمزیاتِ دیدۂ بیدار پھونک

Tuesday, 13 October 2020

جب ہجرت کا اسلوب چلا دل ڈوب چلا

 ہجرت

(مختصر نظم)


ہم، پنچھی، پُلیا، پگڈنڈی خاموش ہوئے

وہ ساتھ لیے جب ہجرت کا اسلوب چلا

دل ڈوب چلا


عبدالرحمان واصف

Monday, 12 October 2020

دل میں رکھے ہوئے خوابوں کا گھروندا دکھ ہے

 دل میں رکھے ہوئے خوابوں کا گھروندا دکھ ہے

سرتاپا دکھ مِری آنکھیں، تِرا چہرہ دکھ ہے

مجھ سے مت ہاتھ ملا، اور نہ دم بھر میرا

تجھ کو معلوم نہیں، اس کا نتیجہ دکھ ہے

دکھ ہی دکھ پھیلے ہوئے ہیں مِرے چاروں جانب

میں تمنائے وفا ہوں، مِرا نغمہ دکھ ہے

Saturday, 3 October 2020

ہمارے خواب سارے دھجیوں میں بٹ چکے ہیں

 دھجیاں

(مختصر نظم)


ہمارے خواب سارے دھجیوں میں بٹ چکے ہیں

تمناؤ دلِ کم بخت کا دالان چھوڑو

ہماری جان چھوڑو


عبدالرحمان واصف