Thursday, 7 July 2022

اب لٹ چکی ہیں میرے شبستاں کی رونقیں

 اب لُٹ چکی ہیں میرے شبستاں کی رونقیں

سُونا ہے اعتبار کا رستا، اداس ہوں

اک یاد ہڈیوں کو جلاتی ہے رات دن

اک شخص کیا گیا کہ سراپا اداس ہوں

وہ چاند میری چھت سے پرے جاگزیں ہوا

جب اس نے مجھ کو جھانک کے دیکھا، اداس ہوں

تم لوگ جا چکے ہو سمندر کو چیر کر

میں ساحلوں کی اوٹ میں بیٹھا اداس ہوں

اب اور میرا دل نہ جلا اے ہوائے شام

اک بار تجھ سے میں نے کہا نا اداس ہوں

شاید زیادہ دور تلک اب نہ چل سکوں

اے راہوارِ شوق و تمنا اداس ہوں

گاؤں بھی تیرے بعد رمق بھر نہیں ہنسا

اور دیکھ میں بھی سارے کا سارا اداس ہوں


عبدالرحمان واصف

No comments:

Post a Comment