عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
روح انساں کو حقیقت سے ملانے والے
مرحبا نغمۂ توحید سنانے والے
دَور پر دَور چلے بادۂ اخلاص کا پھر
منتظر بیٹھے ہیں سب پینے پلانے والے
کر دے بیدار ذرا پھر سے ضمیر انساں
خوابِ غفلت سے زمانے کو جگانے والے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
روح انساں کو حقیقت سے ملانے والے
مرحبا نغمۂ توحید سنانے والے
دَور پر دَور چلے بادۂ اخلاص کا پھر
منتظر بیٹھے ہیں سب پینے پلانے والے
کر دے بیدار ذرا پھر سے ضمیر انساں
خوابِ غفلت سے زمانے کو جگانے والے
کسی کی شام سادگی سحر کا رنگ پا گئی
صبا کے پاؤں تھک گئے مگر بہار آ گئی
چمن کی جشن گاہ میں اداسیاں بھی کم نہ تھیں
جلی جو کوئی شمع گل کلی کا دل بجھا گئی
بتانِ رنگ رنگ سے بھرے تھے بتکدہ مگر
تیری ادائے سادگی مِری نظر کو بھا گئی
رقص کرتی ہے فضا وجد میں جام آیا ہے
پھر کوئی لے کے بہاروں کا پیام آیا ہے
بادہ خواران فنا بڑھ کے قدم لو اس کے
لے کے ساغر میں جو صہبائے دوام آیا ہے
میں نے سیکھا ہے زمانے سے محبت کرنا
تیرا پیغامِ محبت مِرے کام آیا ہے
کہیں جمال ازل ہم کو رونما نہ ملا
ملے تو حسن مگر حسن آپ سا نہ ملا
رہی تلاش مگر درد آشنا نہ ملا
ہمارے بعد انہیں ہم سا با وفا نہ ملا
گئے ہیں دیر و حرم میں بھی بارہا لیکن
وہ آسرا جو دیا تُو نے ساقیا! نہ ملا
تجھے کیا خبر مِرے ہم سفر مِرا مرحلہ کوئی اور ہے
مجھے منزلوں سے گریز ہے میرا راستہ کوئی اور ہے
میری چاہتوں کو نہ پوچھئے جو ملا طلب سے سوا ملا
مِری داستاں ہی عجیب ہے، مِرا مسئلہ کوئی اور ہے
یہ ہوس کے بندے ہیں ناصحا! نہ سمجھ سکے مِرا مُدعا
مجھے پیار ہے کسی اور سے، مِرا دلربا کوئی اور ہے
آج دل سے دعا کرے کوئی
حقِ الفت ادا کرے کوئی
جس طرح دل مِرا تڑپتا ہے
یوں نہ تڑپے خدا کرے کوئی
جان و دل ہم نے کر دئیے قرباں
وہ نہ مانے تو کیا کرے کوئی
نگاہِ مست ساقی کا سلام آیا تو کیا ہو گا
اگر پھر ترکِ توبہ کا پیام آیا تو کیا ہو گا
حرم والے تو پوچھیں گے بتا تُو کس کا بندہ ہے
خدا سے پہلے لب پر ان کا نام آیا تو کیا ہو گا
مجھے منظور ان سے میں نہ بولوں گا مگر ناصح
اگر ان کی نگاہوں کا سلام آیا تو کیا ہو گا
کب خموشی کو محبت کی زباں سمجھا تھا میں
تھا عیاں وہ رازِ دل جِس کو نِہاں سمجھا تھا میں
سُن رہا ہوں اپنی خاموشی کا چرچا کُو بہ کُو
تھی فغاں وہ بھی جسے ضبطِ فغاں سمجھا تھا میں
عارضی سا عکس تھا اک التفاتِ دوست کا
جس کو نادانی سے عیشِ جاوداں سمجھا تھا میں