Showing posts with label درشن سنگھ. Show all posts
Showing posts with label درشن سنگھ. Show all posts

Sunday, 18 August 2024

روح انساں کو حقیقت سے ملانے والے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


روح انساں کو حقیقت سے ملانے والے

مرحبا نغمۂ توحید سنانے والے

دَور پر دَور چلے بادۂ اخلاص کا پھر

منتظر بیٹھے ہیں سب پینے پلانے والے

کر دے بیدار ذرا پھر سے ضمیر انساں

خوابِ غفلت سے زمانے کو جگانے والے

Friday, 14 January 2022

کسی کی شام سادگی سحر کا رنگ پا گئی

 کسی کی شام سادگی سحر کا رنگ پا گئی

صبا کے پاؤں تھک گئے مگر بہار آ گئی

چمن کی جشن گاہ میں اداسیاں بھی کم نہ تھیں

جلی جو کوئی شمع گل کلی کا دل بجھا گئی

بتانِ رنگ رنگ سے بھرے تھے بتکدہ مگر

تیری ادائے سادگی مِری نظر کو بھا گئی

Wednesday, 12 May 2021

رقص کرتی ہے فضا وجد میں جام آیا ہے

 رقص کرتی ہے فضا وجد میں جام آیا ہے

پھر کوئی لے کے بہاروں کا پیام آیا ہے

بادہ خواران فنا بڑھ کے قدم لو اس کے

لے کے ساغر میں جو صہبائے دوام آیا ہے

میں نے سیکھا ہے زمانے سے محبت کرنا

تیرا پیغامِ محبت مِرے کام آیا ہے

Wednesday, 31 March 2021

کہیں جمال ازل ہم کو رونما نہ ملا

 کہیں جمال ازل ہم کو رونما نہ ملا

ملے تو حسن مگر حسن آپ سا نہ ملا

رہی تلاش مگر درد آشنا نہ ملا

ہمارے بعد انہیں ہم سا با وفا نہ ملا

گئے ہیں دیر و حرم میں بھی بارہا لیکن

وہ آسرا جو دیا تُو نے ساقیا! نہ ملا

Saturday, 27 March 2021

تجھے کیا خبر مرے ہمسفر مرا مرحلہ کوئی اور ہے

 تجھے کیا خبر مِرے ہم سفر مِرا مرحلہ کوئی اور ہے 

مجھے منزلوں سے گریز ہے میرا راستہ کوئی اور ہے 

میری چاہتوں کو نہ پوچھئے جو ملا طلب سے سوا ملا 

مِری داستاں ہی عجیب ہے، مِرا مسئلہ کوئی اور ہے

یہ ہوس کے بندے ہیں ناصحا! نہ سمجھ سکے مِرا مُدعا

مجھے پیار ہے کسی اور سے، مِرا دلربا کوئی اور ہے

آج دل سے دعا کرے کوئی

 آج دل سے دعا کرے کوئی

حقِ الفت ادا کرے کوئی

جس طرح دل مِرا تڑپتا ہے

یوں نہ تڑپے خدا کرے کوئی

جان و دل ہم نے کر دئیے قرباں

وہ نہ مانے تو کیا کرے کوئی

Wednesday, 24 March 2021

نگاہ مست ساقی کا سلام آیا تو کیا ہو گا

 نگاہِ مست ساقی کا سلام آیا تو کیا ہو گا

اگر پھر ترکِ توبہ کا پیام آیا تو کیا ہو گا

حرم والے تو پوچھیں گے بتا تُو کس کا بندہ ہے

خدا سے پہلے لب پر ان کا نام آیا تو کیا ہو گا

مجھے منظور ان سے میں نہ بولوں گا مگر ناصح

اگر ان کی نگاہوں کا سلام آیا تو کیا ہو گا

Tuesday, 23 March 2021

کب خموشی کو محبت کی زباں سمجھا تھا میں

 کب خموشی کو محبت کی زباں سمجھا تھا میں

تھا عیاں وہ رازِ دل جِس کو نِہاں سمجھا تھا میں

سُن رہا ہوں اپنی خاموشی کا چرچا کُو بہ کُو

تھی فغاں وہ بھی جسے ضبطِ فغاں سمجھا تھا میں

عارضی سا عکس تھا اک التفاتِ دوست کا

جس کو نادانی سے عیشِ جاوداں سمجھا تھا میں