نگاہِ مست ساقی کا سلام آیا تو کیا ہو گا
اگر پھر ترکِ توبہ کا پیام آیا تو کیا ہو گا
حرم والے تو پوچھیں گے بتا تُو کس کا بندہ ہے
خدا سے پہلے لب پر ان کا نام آیا تو کیا ہو گا
مجھے منظور ان سے میں نہ بولوں گا مگر ناصح
اگر ان کی نگاہوں کا سلام آیا تو کیا ہو گا
چلا ہے آدمی تسخیرِِ مہر و ماہ کی خاطر
مگر صیاد ہی خود زیرِ دام آیا تو کیا ہو گا
مجھے ترکِ طلب منظور لیکن یہ تو بتلا دو
کوئی خود ہی لیے ہاتھوں میں جام آیا تو کیا ہو گا
محبت کے لیے ترکِ تعلق ہی ضروری ہو
محبت میں اگر ایسا مقام آیا تو کیا ہو گا
جہاں کچھ خاص لوگوں پر نگاہِ لطف ہے درشن
اگر اس بزم میں دورِِ عوام آیا تو کیا ہو گا
درشن سنگھ
No comments:
Post a Comment