Wednesday, 24 March 2021

ہم آئے جب تو بجھا کر چراغ در آئے

ہم آئے جب تو بُجھا کر چراغِ در آئے 

کہ اور کوئی نہ تنہائیوں کے گھر آئے 

اُبھارنے کے لیے نقشِ کوزہ گر آئے 

تُو خود ہی اُڑ کے مِری خاکِ چاک پر آئے 

جہاں جہاں بھی اندھیروں کی حکمرانی تھی 

چراغِ نقشِ قدم ہم جلا کے دھر آئے 

فضائے دشت سے مانوس ہو گیا مِرا دل 

اگرچہ سامنے ہر پھر کے بام و در آئے 

یہ رشتۂ سنگ و ثمر کا بہت پرانا ہے 

چلے ہیں سنگ بھی جب شاخ پر ثمر آئے 

کبھی تو موج سخن مہرباں ہو میرے لیے 

کبھی تو ہاتھ کوئی دانۂ گہر آئے 

یہ دشت کیوں نہیں دیتا کوئی جواب مجھے 

یہ کیا کہ بس مِری آواز لوٹ کر آئے 

عجب ہے عدل کا معیار اس کی بستی میں 

خِرد گُناہ کرے، اور جنوں کے سر آئے 

جب اس کے آنے کی اُمید ہی نہیں یاور

اب اس سے کیا مجھے شام آئے یا سحر آئے 


یاور وارثی

No comments:

Post a Comment